خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 478 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 478

خطبات طاہر جلد ۱۰ 478 خطبہ جمعہ ۷/ جون ۱۹۹۱ء انسانوں کو بھی ایک ماننا شرط ہے۔خدا ایک ہی ہے اور تمام انسانوں کا اس پر متفق ہونا ضروری ہے اور یہی اسلام کا مقصد ہے۔اب دیکھ لیں کہ صرف ایک نظریہ ہی نہیں جیسا کہ میں نے واضح کیا ہے اس کے ساتھ اور بھی بہت سی باتیں ہیں جن کو سمجھنا ضروری ہے۔اگر تمام انسانوں کا متحد ہونا اسلام کا ایک بنیادی پیغام ہے تو پھر ہر وہ چیز جو اس اتحاد کو توڑتی ہے وہ یقیناً غیر اسلامی ہوگی۔اگر آپ اس نقطے پر مزید غور کریں اور گہرائی میں جا کر سوچیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ایک بھی تلخ کلمہ یا لفظ اگر کسی دوست کو کہا جائے۔یا اپنے بھائی یا بہن یا ہمسائے یا کسی کے بارے میں بھی بولا جائے جس کی وجہ سے آپ میں اور اس میں اختلاف ہو جائے اور ماحول میں تلخی پیدا ہو جائے اور پھر اس وجہ سے اختلافات شروع ہو جائیں اور لوگ ایک دوسرے سے دور ہوتے جائیں تو یہ سب تو حید کےخلاف ہے ہر تلخ بات پر تلخ عمل۔کوئی بھی نا انصافی یہ سب تفرقہ ڈالنے والی چیزیں ہیں اور توحید سے بعید تر۔آپ ایک خدا یا ایک کلمہ کو ماننے کا دعوی کیسے کر سکتے ہوا گر آپ کا عمل ہی اس کے برعکس ہو۔یہ ایک نہایت ہی گہرا اور حکیمانہ پیغام ہے جو کہ آنحضرت ﷺ نے ایک مرتبہ حضرت ابو ہریرہ کو فرمایا۔من قال لا اله الا الله فدخل الجنۃ آپ نے اس کے ساتھ محمد رسول اللہ نہیں فرمایا۔یعنی جو بھی لا اله الا اللہ کہے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔حضرت ابو ہریرۃ اس پیغام کی گہرائی اور حکمت کو نہ سمجھ سکے اور مدینہ کی گلیوں میں بآواز بلند یہ اعلان کرنا شروع کر دیا کہ لوگو سنو تمہارے کیلئے ایک بڑی عظیم الشان خوشخبری ہے۔حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ جنت میں داخل ہونے کیلئے تمہیں صرف لا الہ الا اللہ کہنا کافی ہے۔اتفاق سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سامنے سے آ رہے تھے جہاں حضرت ابو ہریرہ یہ اعلان کر رہے تھے۔آپ نے ان کو پکڑ لیا اور گھسیٹتے ہوئے واپس آنحضرت ﷺ کے پاس لے گئے اور شکایت کی کہ ابو ہریرہ یہ اعلان کر رہے تھے۔اب لوگوں کا کیا ہوگا اور جس نے بھی یہ اعلان سنا ہے وہ کیا کرے گا۔حضور نے حضرت عمر سے فرمایا کہ ابو ہریرہ کو چھوڑ دو میں نے ہی اس کو یہ بتایا تھا لیکن تمہاری بات بھی ٹھیک ہے۔میں جانتا ہوں کہ لوگ اس بات کی حکمت نہ سمجھ پائیں گے اور اس بات کو یہیں روک دینا چاہئے۔