خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 477 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 477

خطبات طاہر جلد ۱۰ 477 خطبہ جمعہ ۷/ جون ۱۹۹۱ء بہت بڑے پیمانے پر جہاں تمام بنی نوع انسان کی نمائندگی ہوتی ہے اور تمام لوگ ایک جگہ پر اکٹھے ہوتے ہیں یعنی مکرمہ مکرمہ میں تا دنیا جان لے کہ ہم ایک ہیں۔تمام بنی نوع انسان ایک ہی ہیں نہ رنگ و نسل میں تفریق ہے اور نہ ہی جغرافیائی اعتبار سے، تمام انسان اللہ ہی کے بندے ہیں خواہ وہ کہیں بھی پیدا ہوئے ہوں۔جس رنگ کے ہوں، جو بھی زبان بولتے ہوں تو تمثیلی رنگ میں ایک پیغام ہے جو بار بار آپ کو یاد دہانی کرواتا ہے کہ تم سب ایک ہی خدا کی مخلوق ہو اور تو حید کا یہی مطلب ہے۔اس موضوع پر میں دنیا جہان میں مختلف اجتماعات اور جلسوں میں خطاب کرتا رہا ہوں اور اس کی ضرورت پر زور دیتا رہا ہوں اور نہ صرف احمدیوں کو بلکہ غیر مسلموں کو بھی۔جب بھی مجھے ان سے مخاطب ہونے کا موقعہ ملا۔لوگ عموماً اپنی سادگی اور لاعلمی میں یہ خیال کرتے ہیں کہ تو حید وحدانیت صرف ایک عقیدہ ہے اور اس کا تعلق صرف ہماری سوچ سے ہے اور عملی زندگی میں اپنا نا ضروری نہیں۔ایسا ہر گز نہیں۔اگر یہ صرف عقیدہ یا مسلک کے معنوں میں ہوتا تو لا اله الا اللہ پانچ ارکان اسلام میں شامل نہ ہوتا۔لوگ یہ جانتے ہوئے بھی سمجھتے نہیں۔حیرت کی بات ہے کہ تمام مسلمان یقین رکھتے ہیں کہ کلمہ طیبہ یقینی طور پر پانچ ارکان اسلام کا حصہ ہے نہ کہ پانچ ارکان ایمان کا۔پانچ ارکان ایمان تو ہیں اللہ پر ایمان ،فرشتوں پر ایمان، کتابوں پر ایمان، رسولوں پر ایمان اور یوم آخرت پر ایمان لیکن پانچ ارکان اسلام میں سب سے پہلے کلمہ طیبہ لا اله الا الله محمد رسول اللہ ہے۔اس کا واضح مطلب ہے کہ یہ صرف ایک پیغام ہی نہیں ، نہ ہی یہ صرف ایک نظریہ ہے بلکہ یہ تو ایک فرض ہے اور یہ فرض کیا ہے؟ یہی میں آپ کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں۔روزانہ پانچ مرتبہ چھوٹے پیمانے پر اس فرض کی یاد دہانی ہر مسلمان کو کرائی جاتی ہے اور ہر جمعہ کو نسبت بڑے پیمانے پر اس کی پھر یاد دہانی کروائی جاتی ہے۔پھر اور بھی بڑے پیمانے پر عیدین کے موقعہ پر اور پھر زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ حج کے موقعہ پر تمام مسلمانوں کو اس طرف توجہ دلائی جاتی ہے۔یہ اجتماعات انسانوں کی وحدانیت اور باہمی اشتراک کا اتنا کامل اور واضح نمونہ پیش کرتے ہیں تا کہ کسی بھی ذہن میں یہ شک نہ رہ جائے کہ اسلام صرف اللہ ہی کو ایک مانے کا نام نہیں بلکہ تمام