خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 468 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 468

خطبات طاہر جلد ۱۰ 468 خطبہ جمعہ ۳۱ رمئی ۱۹۹۱ء کو انگریزی میں 2:king کہا جاتا ہے۔یعنی سلاطین ) تو آپ کو معلوم ہوگا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جب ہیکل سلیمانی تعمیر فرمایا اور اس کی تکمیل کی آخری تقریبات ہورہی تھیں اور جشن منایا جار ہا تھا تو اس وقت آپ نے ایک عظیم الشان تقریر۔ہیکل سلیمانی کے مقاصد کے اوپر کی اور وہ تقریر اپنے مضمون کے لحاظ سے اس سے ملتی جلتی ہے جو خانہ کعبہ کے متعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی۔اگر چہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تقریر یعنی ان کی دعائیں بہت جامع مانع ہیں اور اس سلسلے میں آپ کے ملفوظات بہت جامع مانع ہیں لیکن حضرت سلیمان کی اس تقریر میں اس کی جھلکیاں نظر آتی ہیں یہود کے ایک نبی کیلئے کیسی عجیب بات ہے کہ وہ وہاں اعلان کر رہے ہیں کہ اے خدا یہ ہیکل سلیمانی صرف یہود کے لئے محدود نہ رہے اے خدا! اس ہیکل میں جو دعائیں مانگی جائیں وہ اس صورت میں بھی قبول فرما کہ یہود وہ دعائیں مانگ رہے ہوں ،اسرائیلی وہ دعائیں مانگ رہے ہوں اور اس صورت میں بھی قبول فرما کہ دنیا کے دور کے کناروں سے آنے والے وہ لوگ جن کا ہمارے مذہب سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے وہ بھی یہاں آکر دعائیں مانگیں تو تو ان کو بھی قبول فرمالے۔حضرت سلیمان یہ کہتے ہیں کہ وہ خدا جو اسرائیل کا خدا ہے وہی کل عالم کا خدا ہے“۔گویا وہ یہ اعلان کرتے ہیں کہ وہی خدا ہے جو صرف اس عالم کا نہیں بلکہ تمام جہانوں کا رب ہے۔دیکھیں سورہ فاتحہ کے مضمون کا ایک حصہ حضرت سلیمان کو بھی عطا ہوا۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کا گویا یہ ترجمہ ہے۔کہتے ہیں تمام جہانوں کا وہ رب ہے۔وہ یہود کے لئے کس طرح محدود ہو جائے گا۔پس وہ خدا سے دعائیں کرتے چلے جارہے ہیں اور سارے یہود بڑے بڑے بزرگ، نیک ، بد، چھوٹے بڑے اکٹھے ہوئے تھے اور سارے ان کے ساتھ آمین کہتے تھے اور اس دعا میں شامل تھے کہ اے خدا تو اس گھر کو عام کر دے اس کے فیض کو عام کر دے۔سارے بنی نوع انسان جو بھی یہاں حاضر ہوں وہ تیری رحمتوں کا فیض پائیں اور واپس جا کر اپنی اپنی قوموں میں اعلان کریں کہ ہم نے ایک ایسے خدا کے گھر کا پتا پایا ہے جس کا فیض ساری دنیا پر عام ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔جو سب سے زیادہ طاقتور ہے تو یہ حضرت سلیمان کی پیاری باتیں تھیں جو یہودی علماء کو تکلیف دیتی تھیں۔وہ متعصب علماء جنہوں نے خدا کو اپنے گھر کی ملکیت بنالیا تھا وہ سمجھتے تھے کہ نیکی سوائے اسرائیل کے باہر ہو ہی نہیں سکتی وہ کس طرح حضرت سلیمان علیہ السلام کو برداشت کرتے۔