خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 428 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 428

خطبات طاہر جلد ۱۰ 428 خطبہ جمعہ کے ارمئی ۱۹۹۱ء ہوں کہ جن ظالموں کو تو نے ہلاک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔جن کے متعلق میں عرض کر رہا ہوں کہ ہماری آنکھوں کے سامنے دکھا دے کہ تیرے وعدے پورے ہوئے ہمیں ان میں نہ شامل فرمادے۔یہ تو ایک بالکل بے تکی اور بے جوڑ بات بن جائے گی۔پس ظالمین کے استعمال کے متعلق قرآن کریم پر نظر ڈالنی چاہئے کہ کن کن معنوں میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ایک دعا اس سے پہلے گزری ہے جس میں حضرت یونس نے یہ عرض کی تھی کہ اے خدا! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور اگر تو مجھ پر حم نہ فرمائے گا اور میری بخشش نہ فرمائے گا تو میں ظالمین میں سے ہو جاؤں گا۔وہاں ظالمین کے معنی یہ ہیں کہ تیری بخشش اور اعتراض کرنے والا ، تیری بخشش پر تلخی محسوس کرنے والا ، تو نے گنہگاروں سے جوحسن سلوک فرمایا اور نرمی فرمائی اور عفو سے کام لیا اس پر میرے دل میں ایک ہلکا سا میل آ گیا۔یہ ظلم ہے تو اس دعا کے تعلق میں جب آنحضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اے میرے رب ہمیں ظالموں میں نہ داخل فرما دینا تو اس کا مطلب یہ تو ہرگز نہیں بن سکتا کہ ہمیں ان لوگوں میں نہ داخل فرما دینا جن کے بدانجام دیکھنے کی ہم تمنا کر رہے ہیں بلکہ یہ مطلب ہے کہ اگر تیری تقدیر یہ ہو کہ ہم آنکھوں سے نہ دیکھیں اگر تیرا یہی فیصلہ ہو کہ ہماری زندگیاں ختم ہو جائیں اور یہ قوم اسی طرح دندناتی پھرتی رہے اور ظلم کرتی رہے اور ان کا بدانجام اپنی آنکھوں سے نہ دیکھیں تو ہمارے دلوں پر سکینت نازل فرمانا ہمارے دلوں پر صبر نازل فرمانا اور ہم تیری رضا پر راضی رہنے والے ہوں اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہوں نے اس سے پہلے جب تو نے اس کے دشمنوں سے بخشش کا سلوک فرمایا تو دل میں کسی قسم کی تنگی محسوس کی۔پھر سورۃ المومنوں ہی میں آیات ۹۸ اور ۹۹ میں آنحضور ﷺ کو ایک دعا سکھائی گئی۔یہ ہے: وَقُل رَّبِّ اَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَتِ الشَّيْطِيْنِ وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ اَنْ تَحْضُرُونِ (المومنون: ۹۹٬۹۸) کہ اے میرے بندے ! تو مجھ سے یہ کر مجھ سے یہ دعا کر کہ وَقُل رَّبِّ اَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَتِ الشَّيطین اے میرے رب ! میں تیرے سرکش بندوں کے وساوس اور ان کے فتنوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔وَاَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ تَحْضُرُونِ اور میں تجھ سے اس بات کی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ مجھ تک پہنچ سکیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے اور تو کہہ دےاے میرے رب ! میں سرکش لوگوں کی شرارتوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔