خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 427 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 427

خطبات طاہر جلد ۱۰ 427 خطبہ جمعہ ۱۷ارمئی ۱۹۹۱ء بات پر قادر ہیں کہ جو کچھ ہم ان کو ڈرا رہے ہیں تجھے بھی وہ دکھا دیں۔پس حضرت اقدس محمد رسول اللہ کی زندگی میں جو دشمن پر کامل غلبہ عطا ہوا اور طرح طرح کے معاند آنحضور ﷺ کے غلاموں کے ہاتھوں عبرتناک شکست کھا کر اس دنیا سے اپنے انجام کو سدھارے۔یہ ساری باتیں اسی دعا کے نتیجے میں تھیں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے مقدر تو تھا مگر دعا کے تعلق کے ساتھ تقدیر کو باندھ دیا گیا۔اس سے ہمیں یہ حکمت بھی سمجھ آتی ہے کہ تقدیر اعلیٰ کا دعاؤں سے گہرا رابطہ ہے۔اور تقدیر کے بنانے میں دعا کام کرتی ہے۔پس ایک پہلو جب تک تشنہ تکمیل ہو اس وقت تک تقدیر جاری نہیں ہوتی۔پس اس خوش فہمی میں بیٹھے رہنا کہ فتح بہر حال ہمارے مقدر میں ہے اس لئے ہمیں کچھ کرنے یا کہنے کی ضرورت نہیں یہ غلط ہے۔یہ مضمون بھی اس طرز کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقدیر اپنی جگہ درست لیکن تقدیر کی طلب اپنی جگہ ضروری ہے جیسا کہ گرمی ہوتی ہے تو مون سون پہنچ جاتی ہے۔مون سون کا اٹھنا اپنی جگہ اپنے قانون کے مطابق ہے لیکن اس کو طلب کرنے کے لئے کسی خاص علاقے کی خاص گرمی کی بھی ضرورت ہے۔چنانچہ وہ گر می اگر پوری طرح میسر نہ آئے تو مون سون تو اپنی جگہ اٹھتی ہی ہے لیکن اس علاقے پر بعض دفعہ نہیں برستی۔پس اس لحاظ سے یعنی یہ مضمون تو بعینہ صادق نہیں آتا مگر یہ ایک ملتی جلتی مثال ہے ہمیں اپنی فتح کی دعاؤں سے بھی غافل نہیں رہنا چاہئے۔اور یہ سمجھ کر چونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس محمد رسول اللہ علیہ سے وعدے فرمائے ہیں کہ آخرین کے دور میں اسلام کو تمام دیگر ادیان پر غلبہ فرماؤں گا اس لئے ہمیں کیا ضرورت ہے اس کے لئے گریہ وزاری کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظر اس مضمون پر سب سے زیادہ گہری تھی ، اس کے باوجود آپ نے اس قدر بے قراری سے غلبہ اسلام کی دعائیں کی ہیں کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ دعائیں کرتے کرتے آپ کی جان نکل جائے گی۔چنانچہ آپ کا بہت ہی دردناک اظہار ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ سنت قائم کر کے ہمیں بتادیا کہ انبیاء اور صلحاء اور اخیار کا یہی مقام ہے اور یہی ان کو زیب دیتا ہے کہ خدا کے وعدوں کے باوجود اس کی طلب میں اپنی جان کھونے کی کوشش کریں اور بہت ہی گریہ وزاری کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے فضل مانگتے رہیں۔پھر یہاں جو فرمایا گیا کہ رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِي فِي الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ (المومنون:۹۵) یہاں الظلمین کا کیا معنی ہے اور فِي الْقَوْمِ الظَّلِمِینَ سے کیا مراد ہو سکتی ہے یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ آنحضرت ﷺ یہ دعا کر رہے