خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 409
خطبات طاہر جلد ۱۰ 409 خطبہ جمعہ ارمئی ۱۹۹۱ء حضرت یونس تین دن اور تین رات مچھلی کے پیٹ میں رہے اور زندہ رہے اور زندہ حالت ہی میں باہر نکالے گئے اسی طرح حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام تین دن کی آزمائش کے بعد جس میں چند گھنٹے صلیب پر لٹکنا اور بقیہ عرصہ ایک قبر نما جگہ میں رہنا ہے آپ زندہ وہاں سے باہر نکلے تو میں یہ آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم نے جس بات کا ذکر نہیں کیا وہ حکمت سے خالی نہیں ، تین دن جو بائیل نے ذکر کیا ہے وہ یقیناً غلط ہے تین دن اور تین رات مچھلی کے پیٹ میں کوئی چیز خدا کے قانون کے مطابق زندہ نہیں رہ سکتی اور اس عرصے میں ہڈیاں گل سٹر کے ختم ہو چکی ہوتی ہیں۔یعنی ہر قسم کا گوشت گل سٹر کے ختم ہو جاتا ہے صرف ہڈیوں کا پنجر باقی رہ جاتا ہے اور اس کے علاوہ دم گھٹنا اور تیز ابی حالتیں یہ تو سوچنے والی بات ہی نہیں ہے۔پس قرآن کریم نے تین دن کا جو ذ کر نہیں کیا وہ حکمت سے خالی بات نہیں ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ مچھلی نے نگلا ہے اور اس کیفیت میں حضرت یونس نے بے اختیار یہ درد ناک دعا کی ہے کہ اے خدا میں کن ظلمات میں پھنس گیا ہوں۔یہ میری اپنی ہی ظلمات ہیں۔اپنے گناہوں کی ظلمتیں ہیں اور میں اب تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ مجھے معاف کر دے۔میں اپنے جرم کا اقرار کرتا ہوں تو اسی وقت قرآن کریم کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ مچھلی نے ابکائی لی ہے اور حضرت یونس کو اگل دیا ہے اور یہ اتنی سی دیر ہوگی کہ سمندر کے اتنے پانی میں جہاں وہ بڑی مچھلی آجاتی ہے صرف اس سے ساحل تک پہنچتے پہنچتے کا عرصہ ہے۔کیونکہ آپ کو ساحل کے اوپر ا گلا گیا ہے پھر آپ نے وہاں چند دن ایک بیل کے سائے میں گزارے۔اسی بیل کا پھل کھایا جس نے آپ کو شفا بھی بخشی اور کچھ توانائی بھی دی اور پھر اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آپ نے ہجرت کے بعد نبوت کا عرصہ شروع کیا۔پس خلاصہ جو قرآن کریم کی رو سے بنتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت یونس نبی نینو یا کسی ایک بستی میں جس کی طرف آپ مبعوث ہوئے تھے خدا کا پیغام لے کر گئے اور بستی والوں نے انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبر دی کہ اگر اس بستی نے توبہ نہ کی اور استغفار سے کام نہ لیا تو اس عرصے کے اندر اندر یہ ہلاک ہو جائیگی جیسا کہ دیگر انبیاء کی تاریخ سے پتا چلتا ہے اس اطلاع کے بعد حضرت یونس علیہ الصلواۃ والسلام وہاں سے ہجرت کر کے کچھ فاصلے پر جا کر ٹھہر گئے اور آنے والوں سے اس بستی کا حال پوچھتے رہے، یہاں تک کہ مقررہ وقت گزر گیا۔حضرت یونس کو یہ علم نہیں تھا کہ اس عرصے میں اس بستی نے