خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 406 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 406

خطبات طاہر جلد ۱۰ 406 خطبہ جمعہ ارمئی ۱۹۹۱ء إنِّي كُنْتُ مِن DOWNLOADNAN میں بہت ہی ظلم کرنے والوں سے تھا ، میں اپنی خطاؤں کا اقرار کرتا ہوں اس لئے تو ہی ہے تو مجھے اس ظلم کی حالت سے نجات بخش۔اس کے جواب میں خدا تعالیٰ فرماتا بے فَاسْتَجَبْنَالَهُ وَنَجَّيْنَهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَلِكَ نُبِي الْمُؤْمِنِينَ (الانبياء :٨٩ ) ہم نے پھر اس کی اس دعا کو سن لیا اور شدید غم سے اس کو رہائی بخشی وَكَذَلِكَ نُجِی الْمُؤْمِنِيْنَ اور اسی طرح ہم مومنوں کو جزا دیا کرتے ہیں۔حضرت یونس کے متعلق بھی تاریخ میں اختلافات پائے جاتے ہیں اور ضرورت ہے کہ ان کے پس منظر سے متعلق بھی چند الفاظ بیان کئے جائیں حضرت یونس کے متعلق جو بائبل نے واقعات بیان کئے ہیں وہ قرآن کریم سے مختلف ہیں اور ان کی ترتیب بھی بدلی ہوئی ہے اور بائیبل کے بیان کے مطابق حضرت یونس کا جو واقعہ ہے وہ ایک ایسی جگہ پیش آیا یعنی یا فامیں۔یا فافلسطین کے مغربی ساحل پر ایک بندرگاہ ہے بیان کیا جاتا ہے کہ یافا سے آپ نے وہ جہاز پکڑا تھا یا سمندری کشتی پکڑی تھی جس میں سے بالآخر آپ کو پھینکا گیا۔یہ یا فا اس مقام سے جو نینوا کا مقام ہے جسے حضرت یونس کی بستی بھی قرار دیا جاتا ہے اگر سیدھا کوے کی اڑان اڑا جائے تو پانچ سو سے زائد میل دور ہے۔نینوا جس کے متعلق عام طور پر مفسرین کا خیال ہے کہ نینوا وہ بستی تھی جہاں حضرت یونس کو بھجوایا گیا تھا وہ موصل میں واقع ہے جو عراق کے شمال میں آج کل کردوں کا علاقہ ہے۔اس زمانے میں جس زمانے کی یہ بات ہے وہاں (Asyrians) اسیر مینز کی حکومت تھی۔حضرت یونس کا زمانہ آٹھ سو سال قبل مسیح بیان کیا جاتا ہے لیکن مختصراً اب میں بائبیل کے متعلق بتا تا ہوں کہ بائیبل کیا کہتی ہے۔پھر میں قرآن کریم کی طرف آؤں گا کہ قرآن کریم کیا بیان فرماتا ہے۔بائیبل کے نزدیک حضرت یونس جن کو جونا یا یونا کہا جاتا ہے اور ان کے نام کی ایک کتاب بھی بائیل میں ہے۔ان کو خدا تعالیٰ نے حکم دیا کہ تو نینوا بستی کو جا کر ڈرا کہ اگر وہ تو بہ نہیں کرے گی تو ہلاک کر دی جائے گی حضرت یونس نینوا جانے کی بجائے یا فا چلے گئے اور یافا جا کر آپ نے وہ کشتی پکڑ لی جس میں سے بالآخر آپ کو قرعہ اندازی کے بعد باہر پھینک دیا گیا اور مچھلی نے آپ کو نگل لیا۔اول تو یہ بات قرین قیاس نہیں یعنی ایک مومن جس نے قرآن کریم کا مطالعہ کیا ہوا اور انبیاء کی عظمت کا تعارف قرآن کریم سے حاصل ہوا ہو وہ ایک لمحہ کے لئے بھی یہ سوچ نہیں سکتا کہ خدا ایک