خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 405
خطبات طاہر جلد ۱۰ 405 خطبہ جمعہ ارمئی ۱۹۹۱ء (الانبیاء :۸۵) کہ ہم نے اس دردناک پکار کو سنا اور قبول کیا۔فَكَشَفْنَا مَابِ، مِنْ ضُرٍ اور ان سب تکلیفوں کو کھول دیا اور تبدیل کر دیا جو ا سے لاحق تھیں وَآتَيْنَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ ہم نے اس کے اہل بھی اسے واپس لوٹا دیئے اور اسے اس جیسے اور بھی بہت سے گھر عطا کئے جو اپنا سمجھتے ہوئے ان کے خاندان کی طرح ہی ہو گئے ، یعنی ایسے ان سے محبت کر نیوالے خاندان عطا کئے جواپنوں سے الگ شمار نہیں کئے جاسکتے تھے جس طرح بعض دفعہ انسانی تعلقات میں بعض خاندانوں میں ایسی محبت ہو جاتی ہے ایسا ملنا جلنا اور قرب کا تعلق ہوتا ہے کہ وہ ایک ہی گھر کے افراد دکھائی دیتے ہیں۔پس مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ میں یہ بھی خوشخبری دی گئی کہ ایک گھر تجھ سے چھٹا تھا، تجھے اور بھی بہت سے گھر ہم عطا کریں گے۔رَحْمَةً مِنْ عِندِنَا یہ خالصہ ہماری طرف سے رحمت کے طور پر ہوگا وَ ذِکرای للعبدِينَ اور جو عبادت کر نیوالے ہیں ان کے لئے یہ ہمیشہ کے لئے نصیحت ہوگی کہ جس قسم کے بھی ابتلاء در پیش ہوں مایوس نہیں ہونا چاہئے اگر صبر کے ساتھ عبادت پر قائم رہتے ہوئے صرف خدا کی ہی طرف جھکو گے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ تمہارے دکھوں کو دور فرمادے گا اور ہر تکلیف کو راحت میں تبدیل فرما دے گا۔ایک اور دعا جو اس کے بعد مذکور ہے۔حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا ہے وہ یہ ہے که وَذَا النُّونِ إِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَى فِي الظُّلُمَتِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَنَكَ إِنّى كُنْتُ مِنَ الظَّلِمِينَ (الانبیاء: ۸۸) اور صاحب نون کی اس حالت کو یاد کرو اذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا جبکہ وہ بہت سخت خفا ہوئے ہوئے دل کے ساتھ جب اس کا دل بہت ناراض اور تنگی محسوس کر رہا تھا ایک جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ کی طرف گیا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ اور اس نے یہ گمان کیا کہ گویا ہم اس پر غالب نہیں آئیں گے یا اس کے خلاف فیصلہ صادر نہیں کریں گے۔نَّقْدِرَ عَلَيْهِ کا مطلب یہ بھی ہے کہ کسی کے خلاف فیصلہ کرنا اور ایک یہ مطلب بھی ہے کہ کسی پر غلبہ پالینا تو دونوں مفہوم کچھ نہ کچھ اس صورتحال پر اطلاق پاتے ہیں فَنَادَى فِي الظُّلُمتِ تب اس نے اندھیروں میں یہ دعا کی أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا انْتَ سُبْحَنَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّلِمِيْنَ ال میرے خدا! تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے سُبحنك تو بہت پاک ہے