خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 383
خطبات طاہر جلد ۱۰ 383 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۹۱ء سلوک نہیں کیا کرتے تھے، ان کے لئے دعائیں کیا کرتے تھے اور ان کی دعائیں ان کے رحم کے نتیجہ میں ہوتی تھیں کیونکہ رحم کے نتیجے میں وہ خود بعض سختیاں اختیار نہیں کر سکتے تھے بعض جگہ وہ تجاوز نہیں کر سکتے تھے۔وہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم نہیں ہے کہ میں یہاں زبردستی اس کو ٹھیک کر دوں۔اس کے نتیجہ میں ان کے دل میں درد پیدا ہوتا تھا اور دعاؤں کی طرف توجہ پیدا ہوتی تھی۔پس وہ لوگ جو منعم علیھم ہیں جن کو خدا نے اس راستہ پر کامیابی سے چلنے کی توفیق بخشی جو انعام یافتہ لوگوں کا رستہ تھا انہوں نے اپنی اولاد کے لئے دعائیں بھی بہت کیں۔پس اس کے نتیجہ میں خدا نے بھی جب جواباً حسن سلوک سکھایا تو اس مضمون کو دعا پر ختم کیا۔فرمایا وہ تمہارے ساتھ حسن سلوک کرتے تھے اس میں دعا ئیں بھی شامل تھیں۔گما کے لفظ نے بتادیا کہ دعائیں ضرور شامل تھیں اگر دعا ئیں شامل نہ ہوتیں تو خداد عا سکھاتا کیوں؟ پس اس مضمون کود عا پر ختم کرنا اس آیت کو بہت ہی زیادہ دلکشی عطا کرتا ہے بہت ہی حسین بنادیتا ہے کیسا کامل کلام ہے تربیت کے سارے امور بھی اس میں بیان ہو گئے۔دونوں نسلوں کے تعلقات اس میں بیان ہو گئے وہ خطرات بیان ہو گئے جو ہمیں پیش آسکتے ہیں جن سے ہمیں متنبہ کیا گیا اور پھر یہ بتایا گیا کہ تربیت کا بہترین طریق دعا ہی ہے۔پس جس طرح تمہارے والدین بچپن میں دعاؤں کے ذریعہ تم سے اپنی رحمت کا اظہار کرتے تھے تم بھی آخر پر خدا سے یہ دعا کیا کرنا اور اس دعا کو حسن سلوک کے بعد رکھا ہے دیکھیں ! وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِ مِنَ الرَّحْمَةِ ان پر اپنی رحمت کے پر پھیلا دو ، ان کو اپنے پروں کے نیچے لے لو۔ساری بات بظاہر مکمل ہوگئی پھر فرمایا نہیں مکمل ہوئی جب تک یہ دعا ساتھ نہیں کرو گے اس وقت تک تم حقیقت میں احسان کا بدلہ احسان کے ذریعے نہیں دے سکو گے۔پس اس دعا نے اس مضمون کو مکمل کیا۔اس دعا کے وقت ان سب باتوں کو اگر ہم پیش نظر رکھیں تو اس دعا میں بہت گہرائی پیدا ہو جاتی ہے اور بہت عظمت پیدا ہو جاتی ہے اور یہ دعا اگلوں کے لئے بھی مفید ہے اور گزرے ہوؤں کے لئے بھی مفید ہے اور ہر طرف برابر اثر دکھاتی ہے۔تو حید باری تعالیٰ کے ساتھ اس مضمون کا بہت گہرا تعلق ہے کیونکہ سوسائٹی میں وحدت توحید کے اعلیٰ قیام کے لئے ضروری ہے۔اور سوسائٹی میں وحدت تبھی ممکن ہے اگر والدین کا اولاد