خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 382 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 382

خطبات طاہر جلد ۱۰ 382 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۹۱ء تربیت میں دونوں میں سے کسی ایک کا زیادہ دخل ہوتا ہے اور آپس کے تعلقات اس حد تک خراب ہوتے ہیں کہ دونوں بیک وقت اپنی اولاد کی ذمہ داریاں ادا نہیں کرتے۔اسی وجہ سے ایسی اولادیں پھر بڑی ہو کر زیادہ خراب ہو جایا کرتی ہیں۔بعض دفعہ وہ ماں کی سائڈ لیتی ہیں کیونکہ ماں نے تربیت اور پیار میں زیادہ حصہ لیا۔بعض دفعہ باپ کے ساتھ تعلق قائم رکھتی ہیں اور ماں کے خلاف ہو جاتی ہیں کیونکہ جانتی ہیں کہ ماں نے تو ہماری ذمہ داریاں ادا نہیں کیں باپ قربانی کرتا رہا ہے تو اس طرح گھروں کے ٹوٹنے کے احتمالات بھی بڑھ جاتے ہیں۔یہ صورت حال پھر بعض دفعہ ایسے خطرناک نتائج پر منتج ہو جاتی ہے جس کے آثار اس وقت ترقی یافتہ ممالک میں ہر جگہ دکھائی دے رہے ہیں کہ اولاد کو اپنے والدین سے خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔یورپ کے بعض علاقوں میں پولیس کی تحقیق کے مطابق تمیں فیصد گھر ایسے ہیں جہاں بچے اپنے ماں باپ سے محفوظ نہیں ہیں یہاں تک کہ جنسی بے راہ روی کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔پس جہاں یہ صورت حال ہو وہاں یہ دعا کیسے کام کر سکتی ہے کہ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَ بَّيْنِي صَغِيرًا یہ ایک ایسے صالح معاشرے کی دعا ہے جہاں والدین نے اپنی اولاد سے محض عام سلوک نہیں کیا، ذمہ داریاں ہی ادا نہیں کیں بلکہ بے حد رحمت کا سلوک کیا اور ان کی تربیت شفقت سے کی کسی غصے کے ساتھ نہیں کی اور تربیت کے لئے رحمت ضروری ہے۔یادرکھیں جہاں جلد بازی میں انسان غصے میں مبتلا ہو جاتا ہے اولادکو مارنے لگ جاتا ہے اس کو گالیاں دینے لگ جاتا ہے وہاں تربیت کا مضمون غائب ہو چکا ہوتا ہے وہاں نفسانی جوش کا معاملہ شروع ہو جاتا ہے اور نفسانی جوش سے تربیت نہیں ہوا کرتی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی لئے ایک صحابی پر بہت ہی خفگی کا اظہار فرمایا۔جن کے متعلق اطلاع ملی تھی کہ وہ اپنی اولا د سے سختی کرتے ہیں اور مار کے ان کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔اتنی سختی کا اظہار فرمایا کہ بہت کم میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے صحابہ پر اس طرح ناراض ہوتے دیکھا ہے اور بار بار اس طرف توجہ دلائی کہ تم دعا کیوں نہیں کرتے اس سے پتہ چلا کہ خدا کے پاک بندے جو سچا ایمان رکھتے ہیں وہ تمام کوششوں میں سب سے زیادہ اہمیت دعا کو دیتے ہیں۔پس ربِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَ بَّيْنِي صَغِيرًا میں ایک یہ پہلو بھی ہمارے سامنے آ گیا کہ وہ رستہ جس پر خدا کے انعام یافتہ لوگ چلا کرتے تھے ، وہ اپنی اولاد کیلئے صرف رحمت کا