خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 352
خطبات طاہر جلد ۱۰ 352 خطبه جمعه ۲۶ / اپریل ۱۹۹۱ء یہاں نجات بخشنے کا جو مضمون ہے یہ غالباً ہجرت کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو ہجرت کا حکم ہو چکا تھا اور فرعون ہجرت میں مانع تھا۔پس۔بجنا سے مراد یہاں ہجرت ہے کیونکہ جب حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام آخرمدین کے بزرگ حضرت شعیب کے پاس پہنچے اور وہاں پناہ لی تو انہوں نے اسی لفظ کے ساتھ آپ کو خوشخبری دی کہ تو ظالموں کی قوم سے نجات پاچکا ہے۔پس کامیاب ہجرت یہاں مراد ہے تو یہ کہا اے خدا! ان میں ہوتے ہوئے بھی ہمیں ان کے ظلم و ستم سے بیچا اور پھر اپنے فضل سے ہمیں ان لوگوں سے کامیاب ہجرت کرنے کی توفیق عطا فرما۔حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ دعا بھی ریکارڈ کی گئی کہ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوْبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْا حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيْمَ (يونس: ۸۹) بالعموم انبیاء کی طرف بددعا ئیں منسوب نہیں ہوتیں لیکن اگر آپ دو یا تین جگہ جہاں بددعا ئیں مذکور ہیں ان کا بغور مطالعہ کریں تو بددعا کرنے کی حکمت اور اس کا جواز بھی وہیں موجود ہو گا اور مضمون بہت اچھی طرح کھل جاتا ہے۔قرآن کریم ایک ایسی کامل کتاب ہے کہ شبہ کا کوئی پہلو باقی نہیں رہنے دیتی۔چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے جب دیکھا کہ قوم بار بارا نکار کر رہی ہے اور ہر عذاب کے بعد وقتی طور پر توبہ کرتی ہے اور پھر دوبارہ انکار کردیتی ہے تو یہ دعا کی: رَبَّنَا اطمس عَلَى أَمْوَالِهِمْ اے خدا! جو قوم اموال کے تکبر میں مبتلا ہو وہ تو ایمان لا ہی نہیں سکتی۔مالداروں کا اپنا ایک نفسیاتی رنگ ہوا کرتا ہے اور اپنے سے غریب لوگوں کو ہمیشہ وہ تذلیل اور تحقیر کی نظر سے دیکھتے ہیں تو حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کا نفسیاتی مطالعہ کیا ہے اور یہ نتیجہ نکالا کہ عذاب تو آئے ہیں جیسا کہ خدا نے فرمایا۔بار بار نشان دکھائے گئے اور اللہ تعالیٰ کی باتیں پوری ہوئیں لیکن پھر آخر یہ کیوں پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور بظاہر ایمان لا کر پھر قدم پیچھے کی طرف ہٹا لیتے ہیں تو یہ سوچتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے سوچا کہ اموال کا تکبران کو برباد کر رہا ہے۔ربَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَالِهِمْ ان کے اموال پر حملہ کر، ان کے اموال کو برباد کر دے۔وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ اور دلوں میں جوانا نیت پیدا ہوگئی ہے۔اس کی وجہ سے ان کے دلوں پرختی کر، ایسا عذاب ڈال جس سے دل نرم پڑ جائیں۔فَلَا يُؤْمِنُوْا حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ یہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک دردناک عذاب کا منہ نہ دیکھیں۔