خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 305 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 305

خطبات طاہر جلد ۱۰ 305 خطبہ جمعہ ۱۲ ار ا پریل ۱۹۹۱ء تھے جس میں ہم اس دعا پر غور کر رہے تھے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّانِيْنَ اور میں نے آپ کو بتایا تھا کہ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں جن لوگوں کا ذکر ہے اگر چہ وہ سب انعام یافتہ ہیں لیکن ان کی زندگیاں بڑی مشقتوں اور تلخیوں میں گزریں اور خدا کی راہ میں انہوں نے بڑے بڑے ابتلاء دیکھے اور ایسے بھی تھے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کہ جنہوں نے خود ابتلاؤں کے تقاضے کئے کہ اے خدا! ہمیں ہماری قربان گاہیں دکھا۔ہمیں ان رستوں پر چلا جن رستوں پر چل کر ہم تیری راہ میں دکھ اٹھا ئیں اور پھر ثابت قدم ٹھہریں اور تجھ سے نئے اعزاز پائیں لیکن ان تمام باتوں کا ذکر کرنے کے بعد جن میں سے ایک حصہ میں پچھلے جمعہ میں بیان کر چکا ہوں اور ایک وہ حصہ تھا جسے بیان نہیں کر سکا لیکن ان کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے۔ان سب تاریخی واقعات پر نظر ڈالتے ہوئے جب غور کرتے ہوئے ایک مومن آگے بڑھتا ہے تو دل میں خوف پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ میں کیا دعا کر رہا ہوں۔ایسی مشکل اور ایسی مصیبت کی دعا اور ایسی دعا جس پر ہو سکتا ہے میں ثابت قدم نہ ٹھہر سکوں۔مشکلات کو اپنے منہ سے دعوت دینا اور امتحان کو بلانا بڑے حوصلے کا کام ہے لیکن اس کے باوجود ہر نماز کی ہر رکعت میں یہ دعا کرنے پر مجبور ہے کہ مجھے انعام پانے والوں کا رستہ دکھا اور اس کی تفصیل قرآن کریم نے جو بیان کی ہے وہ بہت ہی دل ہلا دینے والی تفصیل ہے، ایسی تفصیل ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑی مشکل جان جوکھوں کا راستہ ہے۔سوال یہ ہے کہ پہلے لوگوں نے یہ رستہ کیسے طے کیا تھا۔وہ رستہ انہوں نے ایسے طے کیا کہ قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں خود سکھایا کہ کیا کرو؟ کس طرح یہ مشکلیں تم پر آسان ہو جائیں گی؟ اور یہ آگ تمہارے لئے گلزار بنادی جائے گی۔فرمایا: وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَ الصلوۃ (البقرہ: ۴۶) اے میرے بندوصبر کے ساتھ اور عبادتوں کے ساتھ اور دعا مانگتے ہوئے مجھ سے مدد چاہو۔پس اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ میں جس استعانت کی دعا ہمیں سکھائی گئی اس کا تفصیل کے ساتھ اعادہ کیا گیا اور پھر خدا نے وہ دعائیں بھی اکثر خود سکھائیں۔پس اب میں ان دعاؤں کے اس مضمون میں داخل ہوتا ہوں جس سے پتا چلے گا کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے خود مومنوں کی یہ راہ آسان فرما دی، انہیں دعاؤں کے طریق سکھائے یا ان کی دل