خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 304 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 304

خطبات طاہر جلد ۱۰ 304 خطبہ جمعہ ۱۲ ار ا پریل ۱۹۹۱ء ہوئے تھے۔پس بہت سے ایسے بھی ایمان لانے والے اور مسلمان ہیں جو آج عبادت کرنے والوں کو چھوڑنے کے لئے آئے ہوئے ہیں ، الوداع کہنے کے لئے آئے ہوئے ہیں ، خود بھی عبادت میں شریک ہیں لیکن یہ وقتی شرکت ہے ، چند لمحوں کی شرکت ہے۔جب تک اس جمعہ پر یہ گاڑی ٹھہری رہے گی وہ بھی شریک رہیں گے۔جب یہ گزر جائے گی تو پھر وہ اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوں گے۔خدا کی راہ کے مسافروہی ہیں جو عبادت کی گاڑی پر سوار ہو کر پھر اس کو چھوڑتے نہیں سٹیشنوں پر اتر تے ہیں تو عارضی طور پر لیکن دائم کے سوار ہیں، ہمیشہ ہمیش کے مسافر ہیں اور کبھی بھی وہ عبادت سے تعلق قائم کر کے پھر تعلق تو ڑا نہیں کرتے۔ایسے لوگوں کے مختلف احوال ہیں جو وقتی طور پر آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔بعض ایسے بھی ہیں جنہیں پھر خدا یہ تو فیق بخشتا ہے کہ ان کے دل میں بھی سفر کا شوق پیدا ہو جاتا ہے۔وہ وداع کرنے آتے ہیں، پھر آتے ہیں، پھر آتے ہیں، پھر خیال آتا ہے کہ کیوں نہ ہم بھی اسی گاڑی کے مسافر بن جائیں۔تو وہ لوگ جو بچے ایمان لانے والے ہیں ان میں کمزور بھی ہیں لیکن رفتہ رفتہ کمزور طاقتور ہوتے چلے جاتے ہیں اور ان کی بدیاں جھڑتی چلی جاتی ہیں اور بدیوں کی بجائے نیکیاں عطا ہوتی چلی جاتی ہیں۔پس سچے مومنوں کی گاڑی ہمیشہ پہلے سے زیادہ بھرتی رہتی ہے۔وہ لوگ جو پیچھے رہ جانے کے عادی ہیں اور ہمیشہ پیچھے رہ جانے کے عادی ہیں ان کے متعلق بھی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اللہ تعالیٰ ضرور ان کو عذاب دے گا یا ان سے ناراضگی کا اظہار فرمائے گا۔بعض خوش قسمت ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی موت کی گھڑی سعادت کی گھڑی ہوتی ہے۔ایسی حالت میں اللہ ان کو بلاتا ہے کہ وہ نیکی کی حالت میں ہوتے ہیں،ایسے خوش نصیب وہ ہیں کہ جو توقع رکھ سکتے ہیں کہ اگر چہ ہم کبھی کبھی آئے لیکن خدا نے اس وقت بلایا جبکہ ہم نیکوں میں شمار ہورہے تھے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں یہ دعا خصوصیت سے سکھائی کہ اے خدا! ہمیں اس وقت بلانا، اس وقت ہمیں مارنا جب ہم تیرے حضور نیکوں میں شمار ہورہے ہوں تو ہمیں چاہئے کہ ان چھوڑنے کے لئے آنے والوں کو بھی اپنی دعاؤں میں یا درکھیں اور خصوصیت سے یہ دعا کریں کہ ان سب کے انجام نیک ہوں اور رفتہ رفتہ ان کو بھی عبادت کے دائمی سفر کی توفیق عطا ہو۔میں نے گزشتہ چند خطبات میں سورہ فاتحہ کا ذکر کیا تھا کہ کس طرح سورۂ فاتحہ عبادت کے راز سکھاتی ہے اور عبادت میں لذت پیدا کرتی ہے اور اس مضمون کے آخری حصے میں ہم داخل ہو چکے