خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 282
خطبات طاہر جلد ۱۰ 282 خطبه جمعه ۵ / اپریل ۱۹۹۱ء نوازے اور ہمیں یہ تو فیق عطا فرمائے کہ ہم اس کی نظر میں ان برکتوں کے مستحق ٹھہریں۔بہت سے کمزور ہیں جو اس عشرے میں جاگ اٹھتے ہیں جو سارا سال غفلت میں پڑے سوئے رہتے ہیں ان کے لئے بھی ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ ان کی آنکھ ایسی روشنی میں کھلے کہ پھر انہیں ہمیشہ کے لئے روشنی سے محبت ہو جائے اور سوائے مجبوری کے پھر وہ آنکھیں بند کرنے والے نہ ہوں ایسے بھی لوگ ہیں جو اس عشرے سے ڈرتے ہیں اور خوف کھاتے ہیں کہ شاید ہم اس کا حق نہ ادا کر سکے ہوں۔ایسے بھی ہیں جو روزے نہیں رکھ سکتے اپنی کمزوریوں کی وجہ سے اور وہ سمجھتے ہیں کہ خدا کی سب خلقت اس کی رحمتیں ٹوٹ رہی ہے اور ہم محروم ہوئے بیٹھے ہیں۔اگر چہ قرآن کریم میں ان کے لئے یہ خوشخبری ہے کہ تم پر کوئی حرج نہیں۔تمہارا کوئی جرم نہیں اور خدا تعالیٰ تم سے مغفرت کا سلوک فرمائے گا۔مگر دلوں کا کیا علاج کہ وہ اپنے آپ کو محروم سمجھتے اور اس محرومی میں جلتے ہیں ان کے لئے بھی ہمیں دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی سکینت کے سامان فرمائے اور ان کی محرومیوں کو عنایات میں تبدیل فرمادے اور ان کی دعاؤں کو جس حال میں بھی وہ ہیں اس حال میں سنے۔ایسے بھی ہوں گے جو اٹھ نہیں سکتے۔جو کھڑے ہو کر عبادت ادا نہیں کر سکتے۔ایسے بھی ہیں اور ہوں گے جو بیٹھ بھی نہیں سکتے اور مجبور بستروں پر پڑے رہتے ہیں ایسے بھی ہوں گے جو کروٹ تک نہیں بدل سکتے ایسے بھی ہوں گے جولب تک نہیں ہلا سکتے۔پس ان سب مجبوروں کو بھی ہمیں اپنی دعاؤں میں یا درکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مجبوریوں اور بے بسیوں پر رحمت کی نظر فرمائے اور ان کے دلوں۔دعائیں اٹھائے جن کا میں نے ذکر کیا ہے کہ بسا اوقات اس عشرے میں خدا کی قبولیت آسمان سے زمین پر اترتی ہے اور دلوں سے دعاؤں کو اٹھا کر عرش تک پہنچا دیتی ہے۔سے وہ اس خاص عشرے کے دوران یہ حسن اتفاق ہے یا اللہ تعالیٰ کا تصرف ہے کہ وہ مضمون بھی اپنے آخری مراحل میں داخل ہو رہا ہے جو میں گزشتہ کچھ عرصے سے سورہ فاتحہ سے متعلق بیان کر رہا ہوں اور ان دونوں باتوں کا انطباق ہو چکا ہے۔پس آج کے مضمون میں میں اس حصے کی طرف احباب جماعت کو متوجہ کروں گا۔پہلے بھی میں مختصر اذکر کر چکا ہوں لیکن اب زیادہ تفصیل سے متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ جب هم اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ کہتے ہیں تو ہم کیا دعا مانگتے ہیں اور ہمیں کیا دعامانگنی چاہئے۔یہ ہے تو ایک دعا لیکن ایک ایسے برتن کی طرح ہے