خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 272
خطبات طاہر جلد ۱۰ 272 خطبہ جمعہ ۲۹ / مارچ ۱۹۹۱ء مانگوں تو اللہ تعالیٰ کو رحم آجائے گا اور اس نے بہت سوچ بچار کے بعد اپنی ایک ایسی نیکی ڈھونڈی اور پھر اس نیکی کے حوالے سے دعا کی تو وہ پتھر کچھ سرک گیا۔پھر دوسرے شخص نے بھی اسی کی مثال پکڑی اور اپنی نیکیوں پر نظر ڈال کر، اپنی زندگی پر نظر ڈال کر ایک ایسی نیکی تلاش کی جس کے متعلق وہ سمجھتا تھا کہ خاص مقام رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ کو پسند آئے گی۔چنانچہ اس نے اپنی عرضداشت پیش کی اور وہ مقبول ہوئی اور وہ پتھر کچھ اور سرک گیا لیکن ابھی ان کے نکلنے کی راہ کافی نہیں تھی۔پھر تیسرے کو بھی یہی خیال آیا اور اس نے بھی اپنی ایک نیکی تلاش کی اور بالآخر وہ پتھر مزید ہٹ گیا اور ان تینوں کے نجات کی راہ نکل آئی۔یہ مضمون تو یہ بتاتا ہے کہ اپنی نیکیوں کے حوالے سے تعریف کرنا نہ صرف جائز بلکہ ایک اعلیٰ درجے کی گویا خوبی ہے لیکن جو لوگ یہ نتیجہ نکالتے ہیں وہ اس حدیث کے مفہوم کو نہیں سمجھتے کیونکہ اگر اس حدیث کا یہ مفہوم ہوتا تو انبیاء کی دعاؤں میں ہمیں کہیں تو ایک جگہ ایسی دعائیں جس میں خدا کے کسی نبی نے اپنی نیکی کے حوالے سے دعا کی ہو۔میں نے تو گہری نظر سے قرآن کریم کی دعاؤں کا مطالعہ کیا ہے، احادیث کی دعاؤں کا مطالعہ کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کا مطالعہ کیا ہے۔مجھے کہیں اشارہ بھی کوئی ایسی دعا دکھائی نہیں دی جس میں کسی نبی نے بھی یہ عرض کیا ہو کہ اے خدا! میں یہ ہوں اور میری اس نیکی پر نگاہ ڈال اور میری خاطر یہ کام کر دے کہیں کوئی ذکر نہیں۔اپنے آپ کو بالکل تہی دامن کر دیا ہے۔خالی ہاتھ دکھایا ہے ایسا کشکول ہے جس میں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔روحانی لباس میں وہ لوگ اس طرح خدا کے حضور ظاہر ہوئے ہیں کہ تقویٰ کے لباس سے مزین ہونے کے باوجود وہ اپنے آپ کو اس طرح پیش کر رہے تھے جیسے پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس کوئی فقیر ہو اور فقیر بن کر اس کی راہ میں بیٹھے تھے اور فقیر بن کر دعائیں کرتے تھے۔حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی وہ دعا دیکھیں رَبّ اِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ (القصص: ۲۵)اے میرے رب ! لِمَا اَنْزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِير جو بھی خیرات تو میری جھولی میں ڈال دے میں اس کا فقیر بنا بیٹھا ہوں۔میرے پاس کچھی بھی نہیں۔پس انبیاء کی دعاؤں پر غور کرنے سے تو یہ پتا چلتا ہے کہ انہوں نے کبھی دعا کی قبولیت کی خاطر اپنی خوبی یا نیکی کا حوالہ نہیں دیا۔پھر یہ حدیث اگران معنوں میں لی جائے جو میں نے بیان کئے ہیں تو اس تمام تاریخ انبیاء سے ٹکرا جائے گی جو درست نہیں ہے۔اس حدیث کا اور معنی ہے۔