خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 253
خطبات طاہر جلد ۱۰ 253 خطبہ جمعہ ۲۲ / مارچ ۱۹۹۱ء ہوئے کہ ہمیں علم ہے کہ کس نے اچھا کام کیا ہے اور آپ اچانک پوچھیں کہ کس نے کیا ہے تو بے اختیار کئی بچے ہاتھ اونچا کریں گے کہ ہاں ! ہم نے کیا ہے۔اگر ان کو یہ یقین ہو جائے کہ پتہ نہیں لگے گا کہ کس نے کیا تھا تو پھر اکثر بچوں کے اندر یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ وہ اس بات میں اپنی تعریف کروائیں جو بات انہوں نے نہیں کی۔ان کے بھائی یا کسی بہن نے کی تھی لیکن چونکہ تعریف ہورہی ہے اس لئے وہ کہتے ہیں ہم نے کیا ہے۔اور اگر کوئی یہ نہ کر سکے تو تعریف میں حصہ ڈالنے کی عادت تو اتنی پختہ ہے کہ اس سے تو شاید ہی کوئی انسان بری ہو۔اگر آپ کسی سے پوچھیں کہ بہت اچھا کھانا پکا ہے۔کس نے پکایا ہے؟ تو اگر گھر کی مالکہ نے پکایا ہوگا تو وہ کہے گی میں نے پکایا ہے کوئی دوسرا ساتھ بولے گا کہ مصالحہ تو میں نے بتایا تھا۔ایک تیسر ا بتائے گا کہ ترکیب میری تھی۔ایک چوتھا کہے گا کہ ڈوئی تو میں پھیرتا رہا ہوں غرضیکہ ہر شخص بیچ میں اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔یہ روز مرہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا مشاہدہ ہے لیکن یہ آگے جا کر بہت گہری بیماری میں تبدیل ہو جاتا ہے اور ایسے اشخاص کو بعد ازاں احتمال ہے کہ گہری روحانی بیماریاں نہ لاحق ہو جائیں۔اس کی تفصیل میں جانے کی یہاں ضرورت نہیں۔ہر انسان اپنی زندگی کے واقعات پر غور کر کے یہ جائزہ لے سکتا ہے کہ کس حد تک اس نے اس معاملے میں ٹھو کر کھائی یعنی تعریف کی ایک خواہش تو طبعی ہے اسے اپنے مقام پر رکھنا اور لگام ڈال کر رکھنا یہ ایک الگ مسئلہ ہے مگر جو واقعہ ہو ہی نہیں اس ضمن میں جھوٹی تعریف کی تمنا یہ بہت بڑی بیماری ہے اور یہ شرک کی بدترین قسم بن جاتی ہے اور ایسے لوگ پھر سب سے زیادہ خدا کی تعریف اس سے چھینتے ہیں اور عمد ہر چیز میں بات اپنے ذمے لگاتے ہیں کہ ہماری وجہ سے یہ ہوا ہے اور یہ بیماری جب زیادہ باریک ہو جاتی ہے تو عجیب و غریب شکلیں اختیار کرتی ہے۔میں اس کا ایک نمونہ آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جس سے آپ کو معلوم ہوگا کہ نیک انسان بھی اس قسم کی بعض بیماریوں سے محفوظ نہیں رہتے۔عام طور پر موحد ہیں لیکن بہت سی باتوں میں غلطی کر جاتے ہیں۔یہ بھی رجحان پایا جاتا ہے کہ اگر خدا کا کوئی فضل ہو تو انسان اپنے اندر وہ نیکی تلاش کرتا ہے کہ کس وجہ سے فضل ہوا ہے خدا نے کوئی خاص احسان کیا تو انسان کہتا ہے یہ اس لئے ہے کہ میں نے غریبوں کی ہمدردی کی تھی۔خدا نے بہت احسان کیا اور شفاء بخشی تو انسان سوچتا ہے کہ یہ اس لئے ہے کہ میں نے فلاں انسان کے ساتھ نیکی کا سلوک کیا تھا اور یہاں تک کہ جب کسی شخص پر خدا کا خاص