خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 252
خطبات طاہر جلد ۱۰ 252 خطبه جمعه ۲۲ / مارچ ۱۹۹۱ء ہیں کہ یہ تعلی آپ کا نفس روزانہ کرتا ہے اور کرتا چلا جاتا ہے اور کوئی آنکھ اس کو دیکھتی نہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ یہ جذبہ جب آگے بڑھتا ہے تو پھر ایسی حمد کا بھی انسان طالب ہو جاتا ہے جو ظاہری طور پر اس کو نہیں ملنی چاہئے یعنی حمد کے بعض قصے تو یہ ہیں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اس میں انسان نے ایک اچھا کام ضرور کیا ہے لیکن وہ اچھا کام خود اس کی ذاتی توفیق سے ایسا متعلق نہیں جتنا اللہ تعالیٰ کی بے انتہاء عنایات سے تعلق رکھتا تھا اس کا اس موقعہ پر اس بات کو بھلا دینا یا یہ اہلیت نہ رکھنا کہ اپنے اچھے فعل کے پیچھے خدا کا ہاتھ دیکھے اور خدا کی تخلیق کے ان گنت کرشموں کا نظارہ کرے تو یہ چیز جو ہے یہ ایک حد تک سمجھنے کے لائق ہے اور سمجھانے کے لائق ہے لیکن قرآن کریم فرماتا ہے کہ انسان صرف اسی بات پر راضی نہیں ہوتا۔یہیں ٹھہر نہیں جا تا فرمایا لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا آتَوْا وَ يُحِبُّونَ ان يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ وَلَهُمْ عَذَاب الیم ( آل عمران : ۱۸۹) کہ ہر گز یہ گمان نہ کر کہ وہ لوگ جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر اتراتے ہیں جو کچھ گل وہ کھلاتے ہیں ان پر بڑا فخر محسوس کرتے ہیں۔جو کوئی اچھا کام کیا یا کسی قسم کا بھی ایسا کام جو کم سے کم اس کی نظر میں قابل تعریف ہو تو اس پر وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اترانے لگ جاتے ہیں۔يُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا اس کے ساتھ وہ اس بیماری میں بھی ضرور مبتلا ہوتے ہیں کہ جو کام وہ نہیں کرتے ان کے لئے بھی تعرف کے خواہاں ہو جاتے ہیں اور جب یہ بیماری بڑھ کر اس مقام تک پہنچ جاتی ہے تو تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ پھر یقین رکھ کر یہ لوگ عذاب سے محفوظ نہیں ہیں۔وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِیم اور ان کو درد ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔اس مضمون کا تعلق یقیناً آخرت سے ہے لیکن یہ غلط ہے کہ اس دنیا سے نہیں کیونکہ تعریف کی پیاس جب اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ انسان ان چیزوں پر بھی تعریف کی تمنار کھنے لگ جاتا ہے ، تعریف کروانے کے لئے اس کے دل میں پیاس لگ جاتی ہے جن چیزوں میں اس کا کوئی بھی حصہ نہیں ہوتا یعنی کام کسی اور نے کیا اور تعریف اس نے اپنی کرنی شروع کروادی۔یہ بات بھی آپ روزمرہ کی زندگی میں ہر گھر میں مشاہدہ کر سکتے ہیں ہر انتظام میں مشاہدہ کر سکتے ہیں اور انسانی تعلقات میں اور قوموں کے تعلقات میں بھی یہ بات اگر آپ باریک نظر سے دیکھیں تو آپ کو دکھائی دے گی۔اگر کسی نے کوئی اچھا کام کیا ہواور بتایا نہ جائے مثلا گھر میں بچوں کے ساتھ گفتگو کرتے