خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 248
خطبات طاہر جلد ۱۰ 248 خطبہ جمعہ ۲۲ / مارچ ۱۹۹۱ء جاتے ہیں لیکن خالق کی حمد کا ہمیں خیال نہیں رہتا۔پھول سے محبت کریں گے۔گلشن سے محبت کریں گے۔اچھے مکانوں سے محبت کریں گے۔حسن سے محبت کریں گے خواہ وہ بے جان حسن ہو یا جاندار حسن ہو۔رعب اور طاقت سے محبت کریں گے مگر ان کے پیچھے جو ذات جلوہ فرما ہے اس کا دھیان روز مرہ کی زندگی میں انسان کو نہیں آتا تو ایسا انسان جب پانچ وقت یا اس سے بہت زیادہ مرتبہ ہر نماز میں کئی رکعتوں میں اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کا اقرار کرتا ہے اور اثبات کرتا ہے تو اس اثبات اور اقرار میں کوئی خاص حقیقت نہیں ہوتی۔باوجود اس کے کہ وہ یہ کہنے میں جھوٹ نہیں بول رہا ہوتا لیکن یہ آواز اس کی روز مرہ کی زندگی کا مظہر نہیں۔اس کی روز مرہ کی زندگی کی تصویر نہیں کھینچ رہی۔اس ضمن میں میں خصوصیت کے ساتھ اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔( مجھے یا دنہیں کہ پہلے اس مضمون پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی کہ نہیں ) کہ خدا تعالیٰ کی حمد کی راہ میں سب سے بڑی روک نفس انسانی کی طرف سے پیدا ہوتی ہے اور سب سے بڑا بت ہر انسان کے اندر موجود ہے کیونکہ باہر کی دنیا کی حد میں انسان غفلت کے نتیجے میں بسا اوقات خالق کی حمد سے غافل ہو جاتا ہے لیکن نفس کا بت ایسا ہے جو باقاعدہ شرک کے خیالات پیدا کرنے والا ہے اور اس سے بڑا اور کوئی بت نہیں جو خدا کے مقابل پر الوہیت کا دعوی کرے اور اگر آپ روز مرہ کی زندگی میں اپنے نفوس کا ، اپنی نیتوں کا تجزیہ کریں تو آپ یہ دیکھ کر حیران ہوں گے کہ موحد ہوتے ہوئے بھی بسا اوقات جب آپ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کہتے ہیں کہ تمام تر حمد صرف اللہ ہی کے لئے ہے تو دل کے گوشے سے ایک آواز اٹھتی ہے الحمدلی الحمدلی۔سب حمد تو میرے لئے ہے اور میرے لئے ہے چنانچہ یہ آواز اگر چہ ہر انسان کو اس طرح سنائی نہیں دیتی کہ وہ اسے محسوس کرے اور اسی لئے وہ اس آواز کی طرف متوجہ نہیں ہوتا لیکن فی الحقیقت یہ آواز ہے جو روزمرہ کے تجارب میں انسان اگر توجہ سے کوشش کرے تو سن سکتا ہے۔مثلا ایک اچھی آواز والا گویا ہے جب وہ مجمع کے سامنے بہت خوبصورت آواز میں خوش الحانی کے ساتھ نظم پڑھتا ہے تو وہ داد جو اس کو ہر طرف سے ملتی ہے اس کو اپنے نفس میں اس قدر مطمئن کر رہی ہوتی ہے، اس قدر اس کو لذت عطا کر رہی ہوتی ہے کہ اس وقت اس کا خدا خود اس کا نفس بن چکا ہوتا ہے اور اس کا ذہن کبھی اس طرف نہیں جاتا یا یہ کہنا چاہئے کہ اکثر نہیں جاتا کہ یہ آواز کیسے پیدا ہوئی؟ کس نے اس کو عطا کی؟ اس کی ذاتی کوشش کا اس میں کتنا دخل