خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 247 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 247

خطبات طاہر جلد ۱۰ 247 خطبہ جمعہ ۲۲ / مارچ ۱۹۹۱ء الحمد۔ہر قسم کی حمد اللہ ہی کے لئے ہے سورۃ فاتحہ میں ڈوب کر نماز ادا کریں ( خطبه جمعه فرموده ۲۲ / مارچ ۱۹۹۱ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔سورۃ فاتحہ سے متعلق گزشتہ چند خطبوں میں ذکر چلتا رہا ہے کہ کس طرح یہ نماز کا سلیقہ سکھاتی ہے۔عبادت کے گر بتاتی ہے۔اللہ تعالیٰ سے تعلق کا ذریعہ بنتی ہے اور پھر بنی نوع انسان سے تعلق کا بھی ذریعہ بنتی ہے۔اس لئے اس سورۃ پر محض سرسری نظر نہیں ڈالنی چاہئے بلکہ ہر نماز میں پڑھتے وقت بڑے غور سے اس کے مضامین سے گزرنا چاہئے اور انہیں اپنے نفس پر ساتھ ساتھ اطلاق کرتے چلے جانا چاہئے اور سورہ فاتحہ کے آئینے میں اگر انسان اپنی تصویر دیکھنے کی عادت ڈال لے تو اس سے بہتر آرائش کا اور کوئی ذریعہ سوچانہیں جاسکتا کیونکہ یہ سب سے سچا آئینہ ہے۔اس سے بہتر حق کے ساتھ آپ کو آپ کی تصویر دکھانے والا اور کوئی آئینہ نہیں۔اس ضمن میں الحمد کا جو مضمون پہلے بیان ہوتا رہا ہے اس میں میں نے بڑی وضاحت کے ساتھ جماعت کو یہ سمجھایا تھا کہ ہم کہتے تو یہ ہیں کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ یعنی تمام ترحم ، کلیہ ہر قسم کی کامل حمد صرف اللہ ہی کے لئے ہے اور کسی کے لئے نہیں اور جو حمد کسی کو نصیب ہوتی ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے ملتی ہے۔اس ضمن میں میں نے دنیا کے روز مرہ کے مشاہدات آپ کے سامنے رکھے اور سمجھایا کہ کہتے تو ہم یہی ہیں لیکن بالعموم روز مرہ کی زندگی میں خدا کی تخلیق کی حمد میں تو ڈوب