خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 187
خطبات طاہر جلد ۱۰ 187 خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۹۱ء مصطفی اصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی یہ نصیحت تمہارے خلاف گواہ بن کر نہیں کھڑی ہوگی کہ الید العلیا خير من اليد السفلی ( بخاری کتاب الزكاة حدیث نمبر : ۱۳۳۸) کہ اوپر کا ہاتھ ، عطا کرنے والا ہاتھ ہمیشہ نیچے کے یعنی بھیک مانگنے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے پس اپنی خوبیاں تو تم نے خود غیروں کے سپرد کر دیں۔منگتے ، بھکاری بن گئے اور فخر سے اپنی قوم کے سامنے تمہارے سیاستدان یہ اعلان کرتے ہیں کہ امریکہ نے اتنی بھیک منظور کر لی ہے اور امریکہ نے جو بھیک نہیں دی تھی وہ سعودی عرب نے منظور کر لی ہے۔اگر تمہاری رگوں میں بھیک کا خون دوڑ رہا ہے تو کس طرح قوموں کے سامنے سراٹھا کر چلو گے۔شعروں کی دنیا میں بسنے کی عادت پڑی ہوئی ہے۔اقبال کی پرستش کی جاتی ہے جو یہ کہتا ہے: اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی جس رزق سے آتی ہے پرواز میں کوتاہی ( کلیات اقبال:۔۔) ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر معنیاں لہک لہک کر یہ کلام دنیا کو سناتی ہیں اور مسلمان سر دھنتا ہے کہ ہاں اس رزق سے موت اچھی لیکن ہر موت سے ان کے لئے وہ رزق اچھا ہے جو غلامی کی رنجیروں میں جکڑ دیتا ہے۔کوئی قربانی کی موت اپنے لئے قبول نہیں کر سکتے۔پرواز میں کوتاہی کی باتیں تو دور کی باتیں رہ گئی ہیں اب تو ہر تہہ دام دانے پر لپکنے کا نام پرواز کی بلندی قرار دیا جاتا ہے۔اس سیاستدان سے بڑھ کر اور کون اچھا سیاستدان ہو گا جو کشکول ہاتھ میں لے کر امریکہ کی طرف گیا اور وہاں سے بھی مانگ لایا اور چین کی طرف گیا اور وہاں سے بھی مانگ لایا اور روس کی طرف گیا اور وہاں سے بھی مانگ لایا۔یہ اعلیٰ سیاست کی کسوٹی ہے۔اعلیٰ سیاست کو پر کھنے کے معیار ہیں۔یہ دینی سیاست تو نہیں یہ اسلامی سیاست تو نہیں۔یہ انسانی سیاست بھی نہیں۔یہ بے غیرتی کی سیاست ہے۔اور واقعہ اقبال نے سچ کہا ہے کہ اس رزق سے موت اچھی ہے جس رزق سے تمہارے ہاتھ اور پاؤں باندھے جاتے ہوں تم خود بھی ذلیل اور رسوا ہوئے اور جن قوموں نے تمہیں اپنا سر دار چنا ان سب قوموں سے تم نے بے وفائی کی ، اپنے عوام سے بے وفائی کی۔ان کو بڑی طاقتوں کا غلام بنانے کے تم ذمہ دار ہو، اے مسلمان سیاستدانوں اور اے لیڈرو! ہوش کرو اور تو بہ کرو ورنہ کل تاریخ کی عدالتوں میں تم مجرموں کے کٹہروں میں پیش کئے جاؤ گے۔لیکن اس سے بہت بڑھ کر خدا اور محمد مصطفی کی عدالت میں