خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 165
خطبات طاہر جلد ۱۰ 165 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء گے۔پس ہلاک کرنے کے بھی پیسے اور دوبارہ زندہ کرنے کے بھی پیسے اور دوبارہ زندہ کرنے کے پیسے ہلاک کرنے کے پیسوں سے بہت زیادہ کرائے کے قاتل کو کم دیا جاتا ہے لیکن سرجن کو زیادہ دیا جاتا ہے تو یہ دونوں کردار انہوں نے اپنی ذات میں اکٹھے کرلئے ہیں یہ ہے دنیا کا سب سے بڑا خطرہ آج کے بعد ایک نیا انداز فکر پیدا ہوا ہے اور بڑھتا چلا جائے گا اگر اس کی روک تھام نہ کی گئی۔کسی غریب قوم کو مروانے کے لئے کسی امیر قوم نے پیسے دیئے تو مروایا جائے گا اور پھر بعد میں اس قوم کی تعمیر نو کے لئے بھی اسی کو جرمانے ڈالے جائیں گے اور دونوں کے فائدے ان کو پہنچیں گے۔آخر پر میں آپ کو عراق کی سرزمین سے متعلق یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ بڑی مظلوم سرزمین ہے اور بڑے بڑے سفا کا نہ خوفناک ڈرامے اس سرزمین پر کھیلے گئے ہیں۔میں نے سوچا کہ اس سرزمین کو کیا نام دیا جائے تو مجھے خیال آیا کہ اسے موت اور کھوپڑیوں کے میناروں کی سرزمین کہا جاسکتا ہے۔تاریخ میں سب سے پہلے اسیر یوں Assyrians نے عراقی علاقے پر قابض ہوکر اتنے مظالم اس علاقے میں بسنے والی قوموں پر کئے تھے کہ 200 سال تک ان مظالم سے یہ سارا علاقہ کا نپتا رہا اور سکتا رہا۔879 ( قبل مسیح) میں ، اسیرین کے دور استبداد کے آغاز میں وہاں کے فاتح بادشاہ نے اپنے محل کے سامنے ایک مینار تعمیر کیا ، اس مینار پر یہ عبارت کندہ تھی کہ میں کھالیں کھنچوانے والا بادشاہ ہوں جس شخص نے مجھ سے ٹکر لی ہے میں نے اس کی کھال کھنچوا دی اور یہ مینار جو تم دیکھ رہے ہو اس پر ساری انسانی کھالیں منڈھی ہوئی ہیں اور اس مینار کی چوٹی پر تم جو پنجر دیکھ رہے ہو نیزے پر گڑھا ہوا وہ بھی انسانی پنجر ہے اور اس مینار کے اندر بھی انسان زندہ چنے گئے تھے پس میں وہ بادشاہ ہوں جو کھالیں کھنچوانے والا اور ہلاکت کا بادشاہ ہوں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ دعویٰ تھا کہ میں یہ سب کچھ نیکی کی خاطر کر رہا ہوں اور دراصل اسیر نیز Assyrians کی جنگ نیکی اور بدی کی جنگ ہے ہم نیکیوں کے نمائندہ ہیں اور باقی سب دنیا بدیوں کی نمائندہ ہے۔میں نہیں جانتا صدر بش نے اس تاریخ کا مطالعہ کیا ہے یا نہیں لیکن عراق میں وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ ویسا ہی ایک تمثیلی مینار بنانے کی باتیں سوچ رہے ہیں جس پر یہی عبارت کندہ ہوگی کہ ہم سر توڑنے والے، خودیوں کو برباد کر دینے والے ، عزت نفس کو مٹا ڈالنے والے اور پاؤں تلے روندنے والے بادشاہ ہیں جس شخص نے ہمارے خلاف کوئی آواز بلند کی اور سراٹھانے کی جرات کی ہم