خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 12 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 12

خطبات طاہر جلد ۱۰ 12 خطبہ جمعہ ۴ / جنوری ۱۹۹۱ء کر لیا۔مقصد کا آغا ز تو پھیلنے کے بعد ہوتا ہے جب کوئی علاقہ احمدیت کو قبول کر لیتا ہے تو اس علاقے میں روحانی انقلاب بر پا کرنا احمدیت کا کام ہے۔اگر قبول نہیں کرتا تو وہ کام ہی شروع نہیں ہوتا اس لئے بیعتیں کروانا آخری مقصود نہیں ہے بلکہ بیعتیں کروانا آخری مقصود کی طرف پہلا قدم اُٹھانے کا ایک ذریعہ ہے۔پس یہ سارے افریقہ کے علاقے جہاں کثرت کے ساتھ جماعتیں پھیلی ہیں وہاں اب وقف جدید کی قسم کی تحریکوں کے خاموش مطالبے ہو رہے ہیں یعنی بزبان حال وہ علاقے کہہ رہے ہیں کہ یہاں بھی وقف جدید جاری کی جائے۔انشا اللہ وقت آئے گا کہ دنیا کے ہر ملک میں یہ تحریکیں جاری ہوں گی اور وقف جدید کے ذریعے دیہاتی جماعتوں کی علمی ، روحانی ضرورتیں پوری کی جائیں گی۔اب میں آپ کے سامنے مختصرا گزشتہ سال کے یا سال رواں کے مالی کوائف رکھتا ہوں۔اس ضمن میں میں آپ کو یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ چند سال پہلے غالباً پانچ سال پہلے میں نے باہر کی دنیا کے لئے بھی وقف جدید کے چندے میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی اور یہ گزارش کی تھی کہ اگر چہ اب تک یہ تحریک پاکستان تک محدود رہی ہے اور بعد میں بنگلہ دیش بھی اس میں شامل سمجھا جانا چاہئے کیونکہ پہلے وہ پاکستان ہی تھا اور وہاں ہندوستان میں بھی۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ ہندوستان میں جتنی ضرورت ہے اتنار و پیہ ہندوستان نہیں دے سکتا اس لئے باہر کی جماعتیں چندوں میں شامل ہو جائیں اگر چہ اُن کے اپنے اپنے ملکوں میں وقف جدید کا کام بے شک شروع نہ ہومگر چندوں کی برکت میں وہ شامل ہو جائیں اس سعادت میں شامل ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت نے بہت ہی مثبت جواب دیا اور تقریباً ۵۲ ملک ایسے ہیں جن میں خدا تعالیٰ کے فضل سے با قاعدہ وقف جدید کا چندہ آنا شروع ہو گیا۔اس سال جب ہم نے جائزہ لے کر پہلے دس ممالک کی فہرست تیار کی کہ جو وقف جدید کی قربانی میں اول، دوم، سوم، دس نمبر تک آئے ہیں تو یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ جرمنی کی جماعت جو تحریک جدید میں بھی اول تھی، وقف جدید میں بھی اول رہی ہے اور پاکستان کو میں اس میں شامل نہیں کر رہا۔پاکستان تو خدا کے فضل سے اپنی اولیت کو ہر پہلو سے برقرار رکھے ہوئے ہے اور ابھی تک دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جو ثبات قدم کے لحاظ سے یا آزمائشوں پر رضا اور صبر کے ساتھ پورا اُترنے کے لحاظ سے، قربانیوں کے لحاظ سے اور کثرت کے ساتھ باخدا انسان پیدا کرنے کے لحاظ سے پاکستان کے مقابل پر ہو۔پاکستان کی وہ اوّلیت جو ہندوستان سے ہجرت کے بعد اس کو عطا ہوئی