خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 11
خطبات طاہر جلد ۱۰ 11 خطبہ جمعہ ۴ / جنوری ۱۹۹۱ء جو کچھ یہ ہیں وہی ٹھیک ہے اور قرآن فرماتا ہے کہ اس دور کے علماء جبکہ عموما دین میں دلچسپی کم ہو جائے خود بھی گدھوں کی طرح ہو جایا کرتے ہیں۔پس یہ وہ المیہ تھا جس سے بچنے کے لئے وقف جدید کا آغاز ہوا۔چنانچہ جب ہم نے دیہات کے جائزے لینے کے بعد مریضوں پر نظر ڈالی ان کی تعداد دیکھی تو اس خیال سے وحشت ہوتی تھی کہ اتنی جائز ضرورتیں اس کثرت کے ساتھ ہیں اور ہم ان کو پورا نہیں کر سکتے ویسی ہی مثال ہے کہ: کو ن ہے جو نہیں ہے حاجت مند کی حاجت روا کرے کوئی (دیوان غالب صفحہ: ۳۳۰) سینکڑوں ہزار و مطالبے تھے۔جس گاؤں کا بھی جائزہ لیا گیا۔جس علاقے کا جائزہ لیا گیا ہر علاقہ پیاسا تھا۔ہر جگہ علم کی بھوک تھی اور ایک طلب تھی کہ ہمارے پاس آدمی بھیجو ہمارے پاس آدمی بھیجو اور گنتی کے کل مبلغ جو پہلی کھیپ تھی وہ ۵۳ تھے پھر وہ ۰ے ہوئے پھر آہستہ آہستہ ان کی تعداد بڑھنے لگی۔تو وقف جدید نے ایک بہت ہی اہم ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کی اور وہ ضرورت ابھی تک باقی ہے اور اس ضرورت کا اُسے احساس ہے جو بعض علاقوں میں نہیں ہے لیکن رفتہ رفتہ ہوتا چلا جائے گا اور یہ ایک ایسی ضرورت ہے جو دائی ضرورت ہے۔اس لئے وقف جدید کی تحریک بھی عارضی تحریک نہیں بلکہ ایک دائمی تحریک ہے۔ابھی تک پاکستان میں وقف جدید کے جتنے معلمین کی ضرورت ہے،اس کا دسواں حصہ بھی ہم پورا نہیں کر سکے۔مشرقی پاکستان جو پہلے کہلاتا تھا اب بنگلہ دیش ہے وہاں کی بھی ضرورت ہماری طاقت سے اس وقت بہت زیادہ ہے ہندوستان میں تو بہت ہی تکلیف دہ حالت ہے کیونکہ مالی لحاظ سے جماعت نسبتا غریب ہے اور کچھ عرصے عدم تو جہگی کے نتیجے میں وہاں کی مالی قربانی کا معیار بھی گر گیا تھا۔اب خدا کے فضل سے پھر بہتر ہورہا ہے تو اس لحاظ سے جتنی ضرورت ہے اس کے مقابل پر ہم ضرورت پورا کرنے کے لئے بہت کم مواد ر کھتے ہیں۔مبلغین کے لحاظ سے بھی بہت کم تعداد ہے اور اموال کی ضرورت کے لحاظ سے بھی ایک عرصے تک بہت کمی محسوس ہوتی رہی۔افریقہ جا کر آپ دیکھے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ خدا کے فضل سے بعض علاقوں میں بہت تیزی سے جماعتیں پھیل رہی ہے لیکن جماعتوں کے پھیلنے کا یہ مطلب تو نہیں کہ ہم نے اپنے مقصد کو حاصل