خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 145 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 145

خطبات طاہر جلد ۱۰ 145 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء تفصیل سے ذکر کروں گا۔اسرائیل ایک اور بات اپنے مغربی اتحادیوں، خصوصاً امریکہ کے کان میں یہ پھونک رہا ہے کہ اس علاقے میں امن کے قیام کا صرف ایک ذریعہ ہے ، ایک حل ہے اور وہ یہ ہے کہ یہاں ناصروں اور صداموں کی پیداوار کوختم کر دیا جائے۔جب تک اس علاقے میں ناصر پیدا ہوتے رہیں گے اور صدام پیدا ہوتے رہیں گے کبھی اس علاقے کو امن نصیب نہیں ہوسکتا۔اس پیغام کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ عرب کے زندہ رہنے کی اور آزادی کی روح کو کچل دیا جائے اور فلسطین کی حمایت کے تصور کو کچل دیا جائے اور یہ وہ نظریہ ہے جس کو مغرب عمل التسلیم کر چکا ہے اور یہ نہیں دیکھتا کہ حقیقت میں یہ مظالم ناصروں اور صداموں کی پیداوار نہیں بلکہ وہ مظالم کی پیداوار ہیں۔ایک ناصر کو مٹانے کے لئے جو مظالم انہوں نے مصر پر اور دیگر مسلمان ممالک پر کئے تھے آج صدام اُن کی پیداوار ہے اور نفرت کے نتیجے میں ہمیشہ نفرت اگتی ہے اور کبھی نیم کے درخت کو میٹھے پھل نہیں لگا کرتے۔پس بالکل الٹ قصہ ہے جب تک آپ عربوں سے نا انصافی کرتے رہیں گے عربوں پر مظالم توڑتے رہیں گے ایک کے بعد دوسرا ناصر اور ایک کے بعد دوسرا صدام پیدا ہوتا رہے گا اور یہ تقدیر الہی ہے جس کا رخ آپ نہیں بدل سکتے۔آپ نے عراق پر اب تک جو بمباری کی ہے وہ اتنی ہولناک اور اتنی خوفناک ہے کہ جنگ عظیم کی بمباریاں اس کے مقابل پر کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔جنگ عظیم میں 4 سالوں میں تمام دنیا میں جتنے بم برسائے گئے وہ ۲۷ لاکھ ٹن تھے اور صرف عراق پر ایک مہینے سے کچھ زائد ، پانچ ہفتوں میں جتنے بم گرائے گئے ہیں وہ ۱/۲۔( ڈیڑھ لاکھٹن ہیں۔اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ کتنی شدت کے ساتھ یہاں مظالم کی بوچھاڑ کی جارہی ہے۔انسانی فطرت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔یہ بم صدا میت کو مٹا نہیں رہے بلکہ لاکھوں نوجوانوں کے دل میں خواہ وہ عرب ہوں یا غیر عرب مسلمان ہوں مزید صدام پیدا کرنے کی تمنا پیدا کر رہے ہیں۔بہت سی ایسی نوجوان نسلیں ہیں جو آج ان حالات کو دیکھ رہی ہیں اور ان کے رد عمل میں ان کے دل فیصلہ کر چکے ہیں کہ ہم نے کل کیا کرنا ہے۔پس بموں کی بوچھاڑ سے یہ اگر میٹھے پھلوں کی توقع رکھیں تو اس سے بڑی جہالت ہو نہیں سکتی۔نفرتیں ہمیشہ نفرتوں کو پیدا کرتی ہیں۔نفرت کی وجہ کیا ہے؟ جب تک وہاں نہیں پہنچیں گے۔کون سی نفرتیں ہیں جنہوں نے