خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 130 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 130

خطبات طاہر جلد ۱۰ 130 خطبه جمعه ۱۵رفروری ۱۹۹۱ء (Socilaist Standard) London, November, 1990۔کہ در حقیقت مغرب کے ان تیل کے چشموں پر جو خلیج میں بہتے ہیں حقوق ہیں اور ہم ان حقوق کی حفاظت کی خاطر جارہے ہیں اور یہ خطرہ مول نہیں لے سکتے کہ صدام حسین ان کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے کھیلئے لیکن در حقیقت یہ پورا اعتراف نہیں ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ ان مقاصد میں اسرائیل کو عراق کے خطرے سے ہمیشہ کے لئے محفوظ کرنا اور اسرائیل پر سے یہ "Threat" یہ دھمکی دور کر دینا ہمیشہ کے لئے کہ کوئی مسلمان ملک اس کو چیلنج کر سکتا ہے ، یہ ایک سب سے بڑا مقصد تھا اور ویسے اس مقصد کا تیل کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے کیونکہ اسرائیل کے قیام کی غرض میں ایک غرض یہ بھی شامل تھی کہ مسلمان ممالک کے اوپر ایک پہریدار بٹھا دیا جائے جو جب بھی ضرورت پڑے ان کی گوشمالی کر سکے۔جب وہ مسلمان ممالک بات نہ مانیں تو پھر ان کو سبق سکھانے والا ایک نمائندہ موجود ہے۔اب میں آپ کو جنگ کے نفع و نقصان کو بتاتا ہوں 8905 بلین ڈالرخرچ ہو چکا ہے اس میں سے 30 بلین ڈالر فی یوم ایک بلین ڈالر کے حساب سے خرچ ہو رہا ہے آج تمہیں دن ہو چکے ہیں اور و بلین بتایا جاتا ہے کہ جنگ سے پہلے امریکہ کا خرچ ہو چکا تھا ، 2 بلین جنگ سے پہلے انگریزوں کا خرچ ہو چکا تھا ان کا جو روز خرچ ہو رہا ہے اس کا کوئی شمار معین ابھی معلوم نہیں ہوا وہ اس کے علاوہ ہے۔اس کے علاوہ دوسرے ممالک کو خریدنے پر جو انہوں نے خرچ کیا ہے وہ بھی جنگ کے اخراجات میں شامل ہے۔مصر کے 21 بلین قرضے معاف کئے گئے ہیں اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ انہوں نے ملت اسلامیہ کے مفاد بیچنے کے لئے کتنی قیمت وصول کی ہے۔اسرائیل کو ۱۳ بلین اب تک اس غیر معمولی صبر دکھانے کے نتیجے میں انعام کے طور پر دیا اور شاباش کے طور پر دیا گیا ہے کہ تمہارے چند سو جو زخمی ہوئے ہیں سکڑ سے ان کے نتیجے میں تم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم فوری انتقام نہیں لیں گے اور جب تم سب کچھ اپنا کر بیٹھو گے۔عراق کو پارہ پارہ کر دو گے پھر ہم آئیں گے کسی دن اور اپنی مرضی سے دل کھول کر انتقام لیں گے۔یہ اتنا حیرت انگیز صبر کا مظاہرہ ہے کہ اس کے نتیجے میں ہم تمہیں اور باتوں کے علاوہ ( جنگی ہتھیار بھی بہت دیئے گئے ) 13 بلین ڈالر تحفہ دیتے ہیں۔روس کے متعلق العریبیہ یا العرب ہے اخبار اس نے بیان دیا ہے (انگلستان سے شائع ہوتا