خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 129 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 129

خطبات طاہر جلد ۱۰ یہاں آباد تھے وہ لکھتے ہیں کہ :۔129 خطبه جمعه ۱۵/فروری ۱۹۹۱ء اگر یہ دلیل تسلیم کر لی جائے تو دنیا سے پھر عقل ، انصاف سب کچھ مٹ جائے گا۔یہ دلیل ایسی لغو ہے کہ اس کو زیر غور ہی نہیں لانا چاہئے۔کجاوہ زمانہ اور کجا یہ زمانہ کہ مکمل امریکی طاقت پوری کی پوری یہود کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی کی طرح کھیل رہی ہے، نہ کوئی انصاف ، نہ کوئی عقل، نہ کوئی اخلاقی قدریں، کچھ بھی باقی نہیں رہا۔تو مسلمانوں کا قصور اس میں یہ ہے کہ ان کو اپنے مفاد کے لئے بیدار مغزی کے ساتھ حالات کا جائزہ لینا چاہئے تھا اور ان حالات میں جس طرح یہود اپنا اثر بڑھا رہے تھے ان کو بھی اپنے اثر نفوذ کو استعمال کرنا چاہئے تھا مگر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے انکار کے بعد ان میں کوئی ایسی لیڈرشپ ہی نہیں رہی جو ساری امت مسلمہ کے مسائل پر غور کرے اور ان کو ایک زندہ جسم کے طور پر، ایک دماغ اور ایک دل سے منسلک رکھ کر آگے چلائے۔جہاں تک Reasons کا تعلق ہے کہ مقاصد کیا ہیں؟ کیوں یہ جنگ لڑی جارہی ہے؟ اس کے متعلق سوشلسٹ سٹینڈرڈ Socialist Standard اپنی نومبر 1990ء کی اشاعت میں رقمطراز ہے کہ:۔سنڈے ٹائمنز نے اس بات کو تسلیم کر لیا ہے کہ مقاصد خود غرضانہ ہیں چنانچہ وہ کہتا ہے۔The Reason why we well shortly have to go to war with Iraq is not to free Kuwait کہتا ہے، بالکل جھوٹ ہے، کویت شویت کا جو بہانہ ہے کہ اس کی آزادی کی خاطر ہم مرے جارہے ہیں یہ سب بالکل بکواس ہے۔Though that is to be Desired ہاں ہو جائے تو بڑا اچھا ہے ، کیوں نہیں Though that is to be Desired,or to Defend Saudi Arabia, Though that is Important نہ ہی ہم اس غرض سے گئے ہیں 66 وہاں یا جارہے ہیں کہ سعودی عرب کی حفاظت کریں اگر چہ یہ بھی ایک اہم بات ہے۔“ It is because President Sadam is a meace to vital western interests in the Golf, above all the free flow of oil at market prices۔which is essential to wests prosperity۔