خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 114
خطبات طاہر جلد ۱۰ 114 خطبہ جمعہ ۸ فروری ۱۹۹۱ء عراقیوں اور دیگر فلسطینیوں وغیرہ مسلمان مظلوموں یعنی عرب مسلمانوں کے خون سے جس طرح یہ ہاتھ رنگے جاچکے ہیں اس پر مجھے میک بیتھ (Mecbetth) کی چند لائنیں یاد آگئیں۔لیڈی میکبتھ (Lady Mecbetth) جس نے اپنے خاوند کو بادشاہ کو قتل کرنے پر آمادہ کیا تھا اور اس کے خاوند میک بیتھ نے بادشاہ کو جو غالبا سکاٹ لینڈ کا تھا بہر حال اس وقت کے بادشاہ کو قتل کیا اور سوتے کی حالت میں قتل کیا۔اس کے بعد لیڈی میک بیتھ کو نفسیاتی ردعمل ہوا اور وہ بجھتی تھی کہ اصل قاتل میں ہوں تو نفسیاتی بیماری کے نتیجے میں وہ ہر وقت ہاتھ دھوتی رہتی تھی کہ میرے ہاتھ سے خون کی بو آ رہی ہے اس بو کے سلسلے میں وہ کہتی ہے :۔"Here is the smell of the blood still" میں اتنی دفعہ ہاتھ دھو چکی ہوں اور خون کی بو جاتی ہی نہیں ہے۔ابھی بھی آرہی ہے۔"All the perfumes of the arabia will not sweeten this little hand" عرب کی تمام خوشبوئیں مل کر بھی میرے اس چھوٹے سے ہاتھ کی بوکو مٹھاس میں تبدیل نہیں کر سکیں گی۔یہ کڑوی خون کی بو آتی ہی رہے گی۔صدر بش کا معاملہ اس سے کچھ بر عکس ہے مسلمان عرب خون سے جو ان کے ہاتھ رنگے گئے ہیں میں ان کو یقین دلاتا ہوں کہ اس کی کڑوی بو کبھی امریکہ اور اس کے ساتھیوں کا پیچھا نہیں چھوڑے گی اور تمام دنیا کی پر فیومز (Perfumes) بھی عرب خون کی اس بو کو مٹا نہیں سکیں گی اور اس کی کڑوی بوکو مٹھاس میں تبدیل نہیں کر سکیں گی۔جہاں تک ان کی پیس کی خواب کا تعلق ہے وہ بھی میں میک بیتھ ہی سے میک بیتھ کی ایک سولیلو کی Soliloquy یعنی وہ اونچی زبان میں اپنے دل کی حالت بیان کر رہا ہے اس کے الفاظ میں پیش کرتا ہوں جو ان کی صورتحال پر صادق آتی ہے یہ Soliloquy۔وہ سونے کی کوشش کرتا ہے اور نیند اڑ گئی ہے اس کے ضمیر پر ایک سوئے ہوئے بادشاہ کے قتل کا بوجھ اتنا زیادہ ہے اور اس کا ضمیر اس قدر بے چین ہے کہ وہ اپنے آپ کو معاف نہیں کر سکتا چنانچہ اس کی راتوں کی نیند اڑ جاتی ہے اس کیفیت کو بیان کرتے ہوئے وہ کہتا ہے:۔"Me thought i heard a voice cry sleep no more Mecbetth