خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 102 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 102

خطبات طاہر جلد ۱۰ 102 خطبہ جمعہ ۸ فروری ۱۹۹۱ء اور Egypt کو حکم دیں گے کہ دونوں اپنی اپنی فوجیں نہر سویز سے دور دور تک پیچھے ہٹالیں۔امن کی خاطر ہم دخل دینے لگے ہیں۔چنانچہ یہی ہوا۔آنا فانا اسرائیل کی فوجیں نہر سویز کے کنارے تک پہنچ گئیں اور دوسرے ہی دن انگریزوں اور فرانسیسوں کی طرف سے ایک حکم نامہ جاری ہوا کہ چونکہ تم دونوں قو میں وہاں لڑ رہی ہو اور عالمی امن کو خطرہ لاحق ہو رہا ہے اس لئے ہم حکم دیتے ہیں کہ دونوں اپنی اپنی فوجیں نہر سویز سے اتنی اتنی دور ہٹا لو۔اسرائیل نے اس پر فورا عمل شروع کر دیا جیسا کہ فیصلہ تھا۔Egypt نے کہا کہ یہ ہمارا ملک ہے ہماری نہر ہے۔ہم اپنے ملک سے کیوں فو جیں ہٹالیں۔یہ کونسی منطق ہے۔حملہ آور نے ہٹالیں بس کافی ہے۔اس پر پھر ان دونوں قوموں نے مل کر حملہ کیا۔یہ 56ء کا واقعہ ہے اور اس جنگ میں جو انگریزوں نے کردار ادا کیا ہے۔اس پر Nutting جو اس وقت فارن سیکرٹری تھے انہوں نے ایک کتاب لکھی اس جنگ کے حالات پر۔اس کتاب کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ جو طرز عمل انگلستان نے صدر ناصر کے خلاف اور Egypt کے خلاف اختیار کیا بعینہ وہی طرز عمل آج صدر بش صدر صدام اور عراق کے خلاف اختیار کئے ہوئے ہیں۔یوں لگتا ہے جس طرح یہ کاربن کاپی ہے ان حالات کی جواب رونما ہورہے ہیں۔اسی طرح اصر کے خلاف کردار کشی کی بڑی خطرناک مہم چلائی گئی ، اسی طرح یہ کہا گیا کہ ہم عالمی مفادات کے تحفظ کی خاطر عالمی مفادات کی نمائندگی میں یہ کارروائی کر رہے ہیں۔جس طرح کی زبان صدر بش نے صدام کے متعلق استعمال کی ہے کہ میں تو وہ گندے الفاظ پورے استعمال بھی نہیں کر سکتا لیکن یہ تھا کہ لک کر کے اس کو مار کے پیچھے سے لگ کر کے باہر نکالو۔جو کتاب میں بیان کر رہا ہوں اس کا حوالہ میرے پاس ہے۔مگر اس وقت سامنے نہیں ہے بہر حال اس میں وہ لکھتے ہیں کہ مقصد اس جنگ کا یہ تھا کہ To Kick Nasir out of his Perch یا ملتے جلتے الفاظ تھے کہ ناصر کو ٹھڈا مار کے جس طرح وہ پرندے شاخ پر بیٹھے ہوتے ہیں کسی جگہ پر اس کے بیٹھنے والی جگہ سے اُڑا کر باہر مارو۔یہ جنگ کا اصل مقصد تھا، یہ فیصلہ تھا جو فیصلہ ہو چکا تھا۔جس طرح اس وقت یہ کہا جا رہا ہے بعض مبصرین کی طرف سے کہ دراصل یہ جنگ جنرل بش کی انا کے کچلنے کے نتیجے میں پیدا ہورہی ہے۔اگر چہ یہ درست نہیں ہے۔صدر بش کی انا کا دخل ضرور ہے مگر مقصد ہرگز یہ نہیں تھا لیکن اس زمانے میں Anthony Eden کے متعلق بھی ان کے اس وقت کے فارن سیکرٹری نے اپنی