خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 86 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 86

خطبات طاہر جلد اول 86 خطبہ جمعہ ۳۰ / جولائی ۱۹۸۲ء سپین کی مسجد تو ہے سیر بھی خوب ہوگی۔اگر مسجد کی سیر کا مقصد بالا ہے تو یہ چیزیں تو مل ہی جاتی ہیں۔ان سے انکار نہیں ہے سیر بھی ہوتی ہے مومن کی۔لیکن مقصد اوّل کیا ہے جو زندگی پر حاوی ہے بعض دفعہ انسان کو پتہ نہیں چلتا اور ٹھوکر کھا جاتا ہے۔اس میں دوسرے جذبات کو خلط ملط کر دیتا ہے اور سارے کا سارا رجحان تباہ ہو جاتا ہے۔وہ رخ صحیح نہیں رہتا جس کے تابع انسان قبلے کو پہنچا کرتا ہے۔تو ان جانے والوں کے سامنے بھی تو بڑے بڑے ابتلا ہیں۔آپ کے سامنے وہ ابتلا تو نہیں۔آپ کے دل میں ایک درد ہے اور درد کی دعائیں ہیں۔اگر خدا ان کو قبول کر لے تو آپ بھی شامل ہو جائیں گے۔تذکرۃ الاولیاء میں مذکور وہ واقعہ آپ نے بارہا سنا ہے جسے حضرت مصلح موعود نے بھی بارہا بیان فرمایا۔وہ اسی مضمون کی تشریح کرتا ہے۔کہتے ہیں ایک دفعہ ایک ولی جو بہت بڑے بزرگ تھے ان کو حج کی توفیق ملی۔رویا میں دیکھا کہ فرشتے باتیں کر رہے ہیں کہ اس دفعہ کسی آنے والے کا تو حج ہوانہیں ہاں فلاں شخص کا ہوا ہے جو نہیں آیا اور اس کے طفیل خدا تعالیٰ نے بعض آنے والوں کے حج بھی قبول کر لئے۔جب انہوں نے یہ حیرت انگیز واقعہ سنا تو انہوں نے فرشتے سے پوچھا کہ تم کیا قصہ بیان کر رہے ہو ؟ انہوں نے کہا حج قبول ہوا ہے، لیکن تمہاری وجہ سے نہیں۔خدا کی نظر میں ایک ایسا حاجی ہے جو حج پر تو نہیں آیا لیکن اس کا حج خدا تعالیٰ کو اتنا پیارا لگتا ہے کہ اس کے صدقے اس نے بہت سے دوسرے حاجیوں کے بھی حج قبول کئے۔مگر ان کا ذاتی فیض نہیں ہے۔انہوں نے فرشتے سے پوچھا وہ کون شخص ہے۔اس نے کہا ہم تمہیں پتہ بتا دیتے ہیں خود ہی جا کر اس سے پوچھ لو۔چنانچہ رویا میں ہی اس شخص کا پتہ بتایا گیا جو دمشق کا رہنے والا ایک موچی تھا۔انہیں پتہ یادرہا۔چنا نچہ وہ اس شہر گئے۔محلہ کی تلاش کی اور اس کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اس کی زیارت سے اپنی آنکھیں سیر کیں اور عرض کیا کہ اے خدا کے بندے! تجھ میں وہ کیا بات ہے جو خدا کو اتنی پسند آئی کہ تیرا حج قبول ہو گیا؟ اس کی حالت زار ہوگئی کہ میں تو جانہیں سکا میرا حج کیسے قبول ہو گیا؟ اس نے کہا مجھے خدا نے بتایا ہے اور تیرا پتہ بھی خدا نے بتایا ہے۔مجھے یہ بات بتا جو مجھے نہیں بتائی گئی کہ یہ کیا واقعہ ہے؟ اس نے کہا مجھے تو صرف اتنا پتا ہے کہ بڑا لمبا عرصہ میں نے بچوں کے پیٹ کاٹے ،خود غربت میں گزارا کیا اور حج کے شوق میں پیسے جمع کئے اور اس کی وجہ سے بعض دفعہ گھر میں ہفتوں گوشت نہیں پکتا