خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 3
خطبات طاہر جلد اول 3 خطبہ جمعہ اا/ جون ۱۹۸۲ء ہیں۔ایسی ادا ئیں تو دنیا میں کہیں اور نظر نہیں آ سکتیں۔کوئی مثال نہیں اس جماعت کی۔ایسا عشق ، ایسی محبت ایسی وابستگی کہ دیکھ کر رشک آتا ہے۔محبت ہونے کے باوجود رشک آتا ہے۔ڈر لگتا ہے کہ ہم سے زیادہ نہ پیار کر رہے ہوں یہ لوگ۔یہ کیفیت ایک ایسی کیفیت ہے کہ فی الحقیقت دنیا کے پردہ میں کوئی اس کی مثال چھوڑ اس کے شائبہ کی بھی کوئی مثال نظر نہیں آسکتی ، جماعت اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے تو حید پر قائم ہو چکی ہے۔ہر فتنے سے بچنے کے لئے خدا تعالیٰ نے اس کی سرشت میں وہ باتیں رکھ دی ہیں کہ جن کو دنیا کی کوئی طاقت تبدیل نہیں کر سکتی۔فتنوں سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر کرنا امتثال امر کے طور پر کیا جاتا ہے خوف کے طور پر نہیں۔کیونکہ خوف زائل کرنے کا ہمیں اختیار بھی کوئی نہیں۔وہ خلافت میں وعدہ ہے اللہ کی طرف سے وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا (نور:۵۶) وہی خوف دور کیا کرتا ہے۔بندہ کی طاقت نہیں ہے۔ہاں امتثال امر میں اللہ کی تقدیر کے تابع رہتے ہوئے تدبیر کو اختیار کیا جاتا ہے۔اس سے زیادہ اس تدبیر کی کوئی اہمیت نہیں ہوا کرتی۔پس کامل بھروسہ اور کامل تو کل تھا اللہ کی ذات پر کہ وہ خلافت احمد یہ کو بھی ضائع نہیں ہونے دے گا ہمیشہ قائم و دائم رکھے گا زندہ اور تازہ اور جوان اور ہمیشہ مہکنے والے عطر کی خوشبو سے معطر رکھتے ہوئے اس شجرہ طیبہ کی صورت میں اس کو ہمیشہ زندہ و قائم رکھے گا جس کے متعلق وعدہ ہے اللہ تعالیٰ کا کہ أَصْلُهَا ثَابِتُ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِيْنِ بِاِذْنِ رَبَّهَا (ایم ۲۲-۲۵) کہ ایسا شجرہ طیبہ ہے جس کی جڑیں زمین میں گہری پیوست ہیں اور کوئی دنیا کی طاقت اسے اکھاڑ کر پھینک نہیں سکتی۔یہ شجرہ خبیثہ نہیں ہے کہ جس کے دل میں آئے وہ اسے اٹھا کر اسے اکھاڑ کے ایک جگہ سے دوسری جگہ پھینک دے کوئی آندھی، کوئی ہوا اس (شجرہ طیبہ ) کو اپنے مقام سے ٹلا نہیں سکے گی اور شاخیں آسمان سے اپنے رب سے باتیں کر رہی ہیں اور ایسا درخت نو بہار اور سدا بہار ہے۔ایسا عجیب ہے یہ درخت کہ ہمیشہ نو بہار رہتا ہے کبھی خزاں کا منہ نہیں دیکھتا۔تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِيْنِ ہر وقت، ہر آن اپنے رب سے پھل پاتا چلا جاتا ہے اس پر کوئی خزاں کا وقت نہیں آتا اور اللہ کے حکم سے پھل پاتا ہے اس میں نفس کی کوئی ملونی شامل نہیں ہوتی۔یہ وہ نظارہ تھا جس کو جماعت احمدیہ نے پچھلے ایک دو دن کے اندر اپنی آنکھوں سے دیکھا