خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 2
خطبات طاہر جلد اول 2 خطبہ جمعہ ۱۱/ جون ۱۹۸۲ء حضور کی یاد دل سے محو ہونے والی یاد نہیں۔اس کے تذکرے انشاء اللہ تعالیٰ جاری رہیں گے۔آخری بیماری کا ایک واقعہ میں صرف آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔وفات سے غالبا ایک یا دو دن پہلے آپا طاہرہ کو حضور نے فرمایا کہ گزشتہ چار دنوں میں میری اپنے رب سے بہت باتیں ہوئی ہیں۔میں نے اپنے رب سے عرض کیا کہ اے میرے اللہ ! اگر تو مجھے بلانے ہی میں راضی ہے تو میں راضی ہوں۔مجھے کوئی تر ڈ نہیں میں ہر وقت تیرے حضور حاضر بیٹھا ہوں ، لیکن اگر تیری رضا یہ اجازت دے کہ جو کام میں نے شروع کر رکھے ہیں، ان کی تکمیل اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں تو یہ تیری عطا ہے۔b خدا کی تقدیر جس طرح راضی تھی اور جس طرح آپ نے سر تسلیم خم کیا آج ساری جماعت اس تقدیر کے حضور تسلیم خم کر رہی ہے۔اللہ ہمارے صبر اور ہماری رضا میں اور بھی برکت دے اور ہمیشہ ہر حال میں اپنے رب سے راضی رہنا سیکھ لیں کیونکہ خلافت کے قیام کا مدعا توحید کا قیام ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے اہل۔ایسا کہ جو کبھی ٹل نہیں سکتا، زائل نہیں ہوسکتا۔اس میں کوئی تبدیلی کبھی نہیں آئے گی۔يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا (نور:۵۶) کہ خلافت کا انعام یعنی آخری پھل تمہیں یہ عطا کیا جائے گا کہ میری عبادت کرو گے، میرا کوئی شریک نہیں ٹھہراؤ گے، کامل تو حید کے ساتھ تم میری عبادت کرتے چلے جاؤ گے اور میرے حمد وثناء کے گیت گایا کرو گے۔یہ وہ آخری جنت کا وعدہ ہے جو جماعت احمدیہ سے کیا گیا ہے اور مجھے یقین ہے اور جو نظارے ہم نے دیکھے ہیں اور جن کے نتیجہ میں غم کے دھاروں کے علاوہ حمد کے دھارے بھی ساتھ بہہ رہے ہیں اور شکر کے دھارے بھی ساتھ ہی بہہ رہے ہیں ایسے حیرت انگیز ہیں کہ آج دنیا میں کوئی قوم اس کے پاسنگ کو بھی نہیں پہنچ سکتی جو جماعت احمدیہ کا مقام اس دنیا میں ہے وہ کسی اور جماعت کا نہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک زندہ معجزہ جو ہر دوسرے اعتراض پر ، ہر مخالفت پر غالب آنے والا اور ہمیشہ غالب آنے والا معجزہ ہے، وہ جماعت احمدیہ کا قیام ہے اور جماعت احمدیہ کی تربیت ہے اور جماعت احمدیہ کے رنگ ڈھنگ ہیں ، جماعت احمدیہ کی ادائیں