خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 60 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 60

خطبات طاہر جلد اول 60 60 خطبہ جمعہ ۲۳ جولائی ۱۹۸۲ء خبر دار تم وہ لوگ ہو جن کو اس طرف بلایا جارہا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔فَمِنْكُمْ مَّنْ يَّبْخَلُ تم میں ایسے بھی ہیں جو بخل سے کام لیتے ہیں اور جو کوئی بخل سے کام لے اللہ تعالیٰ اس کے بارہ میں بھی بخل سے کام لینے لگتا ہے۔وَاللهُ الْغَنِتُ یہ باطل خیال دل سے نکال ڈالو کہ اللہ تمہارے چندوں کا محتاج ہے۔اللہ غنی ہے۔وَأَنتُمُ الْفُقَرَاءِ تم فقیر ہو جو ہر بات میں اس کے محتاج ہو اور ان وہموں میں مبتلا ہو جاتے ہو کہ گو یا نظام سلسلہ کو ہم چندے دے دے کے چلا رہے ہیں۔وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَ كُمُ الله کے کام بہر حال جاری رہیں گے۔تم اگر پھر گئے تو خدا تمہارے بدلے ایک دوسری قوم کو لے آئے گا۔ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ پھر وہ تم جیسے نہیں ہوں گے۔اس آیت کا انتخاب میں نے اس وجہ سے کیا ہے کہ اس سے پہلے میں نے مومنین کے صف اول کے طبقہ کا ذکر ایک گزشتہ خطبہ میں کیا تھا۔جن کے خلوص اور تقویٰ اور بے مثال مالی قربانیوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے بیشمار فضل سلسلہ عالیہ احمدیہ پر ہوتے رہے، ہور ہے ہیں اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔لیکن خلیفہ وقت کا کام اپنے آقا کی کامل متابعت ہے۔اور خلیفہ کا آقا نبی ہوتا ہے اور نبیوں میں بھی نبیوں کے امام حضرت محمد مصطفی ﷺ ہی میرے مطاع ہیں اور آپ ہی کی پیروی پر میں پابند کیا گیا ہوں اور غلامانہ طور پر مسخر کیا گیا ہوں۔اور تمام انبیاء کی زندگی کا اور ان کے کاموں کا خلاصہ اللہ تعالیٰ نے دو لفظوں میں نکالا ہے۔ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُم وہ بشیر بھی ہوتے ہیں اور نذیر بھی ہوتے۔زندگی کا صرف ایک پہلو نہیں لیتے۔دوسرا پہلو بھی اختیار کرتے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ قوموں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے دو قسم کے محرکات کارفرما ہوا کرتے ہیں۔ایک طمع کا اور ایک خوف کا۔پس وہ بشارتیں دے دے کر بھی لوگوں کو آگے بڑھاتے ہیں اور ڈرا ڈرا کر بھی لوگوں کو آگے بڑھاتے ہیں۔اور زندگی کے یہی دو محرکات ساری کائنات پر پھیلے پڑے ہیں۔جہاں بھی زندگی کا وجود ملتا ہے انہی دو محرکات پر وہ توجہ دیتے۔یہ مرکزی طاقت ہے جس سے تو میں انرجی یعنی قوت حاصل کر کے آگے بڑھتی ہیں۔پس پہلا خطبہ بشیر کے غلام کی حیثیت سے تھا اور یہ خطبہ نذیر کے غلام کی حیثیت سے دے رہا ہوں۔