خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 50
خطبات طاہر جلد اول 50 50 خطبہ جمعہ ۶ ار جولائی ۱۹۸۲ء لیکن جہاں تک دعا کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ کا تقاضا اپنے بندوں سے یہ ہے کہ یہاں دوطرفہ رستہ چلے گا۔یہ تعلق وہ نہیں ہے جو یکطرفہ چلے۔اگر تم دعاؤں کی قبولیت چاہتے ہو تو تمہیں میری باتوں کو بھی قبول کرنا پڑے گا۔چنانچہ اسی مضمون کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيْبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَهـ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (البقره: ۱۸۷) اس آیت کے دو پہلو ہیں جو قابل توجہ ہیں۔پہلا ہے وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّى فَإِنِّي قَرِيبٌ یعنی جب بھی میرے بندے، اے محمد ! میرے بارے میں تجھ سے سوال کرتے ہیں تو میں قریب ہوں۔یہ نہیں فرمایا کہ ان کو کہہ دے کہ میں قریب ہوں۔اتنا فاصلہ بھی نہیں رہنے دیا جو سوال کو جواب سے دور کر دیتا ہے یعنی ایسے الفاظ بھی بیان نہیں فرمائے جو سوال اور جواب کے درمیان حائل ہو جائیں۔فرمایا ہے۔اِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ میں تو کھڑا ہوں سن رہا ہوں ان کی باتیں۔کوئی چیز حائل نہیں ہے ان کے اور میرے درمیان۔ط یہاں عام سوال کا ذکر نہیں ہے۔یہ مراد نہیں ہے کہ جو جس طرح چاہے اپنی مرضی سے مجھے آوازیں دیتا پھرے، تلاش کرتا پھرے میں ہر ایک کے قریب ہوتا ہوں۔اس سوال کی اور اس کے جواب کی حکمت کی چابی، اس کو سمجھنے کے لئے جو حکمت درکار ہے اس کی چابی سالٹ کے لفظ میں ہے۔اے محمد ! جب تجھ سے سوال کرتے ہیں تو پھر میں قریب ہوں۔یہاں ک کا لفظ اگر اڑا دیا جائے تو یہ آیت اور معنی اختیار کرلے گی اور عام ہو جائیگی۔إِذَا سَأَلَ عِبَادِي عَنِّى فَإِنِی قَرِيبٌ سے مراد یہ ہے کہ جو بندہ جب چاہے جس طرح چاہے سوال کرے میرے بارے میں ، ہمیشہ مجھے قریب پائے گا۔اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا۔فرماتا ہے۔إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّى فَإِنِّي قَرِيبُ اے محمد ! جب تجھ سے پوچھتے ہیں میرے بارے میں ، پھر میں قریب ہوں۔اس میں ایک بہت بڑا فلسفہ بیان فرمایا گیا ہے اللہ تعالیٰ کی تلاش کا۔ہر چیز جس کی دنیا میں