خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 49
خطبات طاہر جلد اول 49 49 خطبہ جمعہ ۶ ار جولائی ۱۹۸۲ء بڑی مصیبت کی زندگی ہم نے گزاری۔اس سے زیادہ تو اور کیا چاہتا ہے۔جو سجدے کرنے تھے ہم نے کر لئے۔جو راتوں کو اٹھنا تھا اٹھ لیا۔جو تیری خاطر تکلیف برداشت کرنی تھی کر لی۔اب ہم تجھے الوداع کہنے آئے ہیں، تیری رحمتوں اور نعمتوں کو الوداع کہنے آئے ہیں، تیرے گھر کو الوداع کہنے آئے ہیں، جمعوں کو الوداع کہنے آئے ہیں، نمازوں کو الوداع کہنے آئے ہیں۔لیکن ہماری ایک بات مان کہ یہ آج کی نمازیں ہمارے سارے سال کی نمازوں کی کفیل ہو جائیں۔آج کی عبادت سارے سال کی عبادت کی ضامن ہو جائے اور اس کی قائمقام بن جائے۔پس ہم تجھے رخصت کرتے ہیں۔جاتو اور تیرے وفا دار عبادت گزار، اب سارا سال ان دونوں کا تعلق قائم رہے۔لیکن ہم اب تجھے پھر نظر نہیں آئیں گے۔کچھ وداع کرنے والے ایسے بھی ہیں۔وہ منہ سے تو یہ نہیں کہتے لیکن جمعہ کے بعد۔اس جمعہ کے بعد جب رمضان کے دن گزر جائیں گے اور عام دن آئیں گے تو ان کا عمل ان کی آج کی دعاؤں اور التجاؤں کی یہی تشریح کر رہا ہو گا۔و اَنَّ اللهَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (لقمان: ٣٠) ۳۰) دیکھو تمہارے عمل بظاہر کتنے مقدس کیوں نہ ہوں اللہ کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔وہ اعمال کی کنہ سے واقف ہے۔وہ تمہارے دلوں کی پاتال تک نظر رکھتا ہے۔اس لئے زبانیں تمہاری جو بھی کہتی رہیں اعمال کی زبان خدا سنے گا اور اسی زبان کے مطابق تم سے سلوک کرے گا۔پس ایسے وداع کہنے والوں کو میں اس کے سوا کچھ نہیں کہتا کہ دیکھو اگر تم خدا سے وفا کا تعلق چاہتے ہو تو اس سے وفا کرو۔اگر خدا سے پیار اور محبت چاہتے ہو تو اس سے پیارا اور محبت کا حق ادا کرو۔اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی تو نہیں کہ ایک دفعہ اس کے قریب آنے کے بعد پھر دور بھاگنے کو دل لگے۔وہ تو سب محبوبوں سے بڑھ کر محبوب ہے۔سب دلنوازوں سے دلنواز ہے۔وہ تو ایسا پیارا وجود ہے، ایسا محبوب وجود ہے کہ اس کی کوئی مثال نہیں۔ایک ہی تو ہستی ہے جو فقید المثال ہے اور وہ ہمارا رب ہے اس کے دو طرح کے احسانات ہم پر ہیں : ایک وہ احسانات جو یکطرفہ جاری رہتے ہیں اور مقابل پر خدا ہم سے کچھ نہیں مانگتا، نہ پوچھتا ہے، نہ پرواہ کرتا ہے ، کافر ہو یا مومن ہو اس کی رحمانیت کے عام جلووں کے تابع ہمیشہ اس سے فائدہ اٹھاتا رہتا ہے۔