خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 361
خطبات طاہر جلد اول 361 خطبہ جمعہ ۳۱ دسمبر ۱۹۸۲ء والی بات سے تو ہم بہت آگے نکل چکے ہیں اب تو کیفیت یہ ہے کہ خدا کے احسانات دل میں پہنچتے ہوئے از خودحمد میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔اور ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ جوں جوں ہم شکر کا حق ادا کر رہے ہیں لَا زِيدَنَّكُمْ کا قانون بھی بر سر عمل رہتا ہے اور ہم خدا تعالیٰ کی طرف سے مسلسل بڑھتے ہوئے فضلوں کو آسمان سے اترتا دیکھتے ہیں۔اسلام ایک بہت ہی پیارا مذہب ہے۔یہ الیسا حیرت انگیز مذہب ہے کہ اس کے ایک ایک جزو میں ڈوب کر انسان جنت حاصل کر سکتا ہے۔لہن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (برایم ) والا ایک ایسا جاری اور مسلسل عمل ہے کہ جو اس عمل میں ایک دفعہ داخل ہو جائے اس کے لئے جہنم کا کوئی تصور باقی نہیں رہتا۔وہ ایک حمد سے دوسری حمد میں داخل ہوتا چلا جاتا ہے۔ایک منزل سے دوسری منزل میں منتقل ہوتا چلا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور احسانات کا لامتناہی سلسلہ ہے جس سے دل بھرتے اور چھلکتے رہتے ہیں اور پھر بھرتے اور پھر چھلکتے رہتے ہیں لیکن یہ سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔اس جلسہ سالانہ پر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے جو نظارے دیکھنے میں آئے ان میں سے ایک کا میں خصوصیت سے ذکر کرنا چاہتا ہوں۔مستورات کی تقریر میں میں نے ”پر دے“ کو موضوع کے طور پر اختیار کیا۔کیونکہ میں محسوس کر رہا تھا کہ دنیا میں اکثر جگہ سے پردہ اس طرح غائب ہو رہا ہے کہ گویا اس کا وجود ہی کوئی نہیں اور اس کے نتیجے میں جو انتہائی خوفناک ہلاکتیں سامنے کھڑی قوم کو آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی ہیں، ان ہلاکتوں کا کوئی احساس نہیں ہے۔ماں باپ اپنی بے عملی اور غفلتوں کے نتیجے میں اپنی نئی نسلوں کو ایک معاشرتی جہنم میں جھونک رہے ہیں۔اور کوئی نہیں جو اس کی پرواہ کرے۔یہ صورت حال ساری دنیا میں اتنی سنگین ہوتی جارہی ہے کہ مجھے خیال آیا کہ اگر احمدیوں نے فوری طور پر اسلام کے دفاع کا جھنڈا اپنے ہاتھ میں نہ لیا تو معاملہ حد سے آگے بڑھ جائیگا۔چنانچہ جب جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ احمدی مستورات میں بھی یہ کمزوریاں داخل ہوگئی تھیں اور مجھے اس بات کی بہت فکر لاحق ہوئی۔اس لئے جلسہ کے دوسرے روز میں نے مستورات میں اپنی تقریر میں اپنی بچیوں کو سمجھایا اور انتظامی لحاظ سے بعض سختیاں بھی کیں۔مثلاً اگر پہلے بے پردہ مستورات کو سٹیج کا ٹکٹ مل جاتا تو اس دفعہ اس بارے میں خاص طور پر سختی کی گئی۔چنانچہ کچھ شکوے بھی پیدا ہوئے۔لیکن تقریر کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جس قسم کے خط مجھے اپنی بچیوں کی طرف سے موصول ہوئے ہیں