خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 360
خطبات طاہر جلد اول 360 خطبه جمعه ۳۱ دسمبر ۱۹۸۲ء ضرورت فیصلہ کرتی ہے کہ رفتارکتنی تیز ہونی چاہئے وہاں ہم بعض دفعہ معیاری روٹی پیش نہیں کر سکتے۔بعض انجینئر زایسے ہیں جنہوں نے اس کام پر سارا سال محنت کی ہے اور بہتری کے کچھ ذرائع بھی تجویز کئے۔جن پر اس دفعہ عمل بھی ہوا۔اور جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ خدا کے فضل کے ساتھ ان ذرائع سے بہت اچھے نتائج پیدا ہوئے ہیں۔لیکن ان سب ذرائع کو ابھی زیر نظر رکھنا پڑے گا۔پھر ان کو آہستہ آہستہ باقی انتظامات پر بھی ممتد کرنا پڑے گا۔اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ انشاء اللہ یہ صورت حال دن بدن بہتر ہوتی چلی جائے گی۔مگر جہاں تک مہمانوں کا تعلق ہے وہ کوئی حرف شکایت زبان پر نہیں لائے اور جو کچھ بھی ان کو میسر ہوا، انہوں نے بڑے صبر اور شکر کے ساتھ ، راضی برضا ر ہتے ہوئے اسی پر کفایت کی۔اسی طرح آخری دن جلسے کے دوسرے حصے میں اگر چہ موسم بہت خراب تھا، اس کے باوجود مہمانوں نے حیرت انگیز صبر کے ساتھ تقریر کو سنا۔ہم تو مسجد کے اندر تھے اس لئے پوری طرح احساس نہیں ہوسکتا تھا کہ جو دوست باہر بیٹھے ہوئے ہیں وہ کتنی سردی کی تکلیف برداشت کر رہے ہیں۔اور بولنے والے کا جسم تو ویسے ہی بولتے بولتے گرم ہو چکا ہوتا ہے اس لئے گرمی کا احساس تو اس کو ہو سکتا ہے، سردی کا احساس نہیں رہتا۔یہ تو اللہ تعالی کی مشیت تھی اور اچھا ہی ہوا کہ ہمیں ساڑھے پانچ بجے مجبوراً جلسہ ختم کرنا پڑا۔بعد میں پتہ چلا کہ ساری جلسہ گاہ بھری پڑی تھی اور خصوصاً دیہاتی جماعتوں کے دوست گیلی پرالی کے اوپر بڑے صبر کیساتھ مسلسل کئی گھنٹے بیٹھے رہے ہیں اور ایک آدمی بھی اٹھ کر باہر نہیں گیا۔جماعت احمدیہ کے صبر اور اخلاص کا یہ جو حیرت انگیز مظاہرہ ہے، اللہ تعالیٰ اس میں برکت دے۔بات وہیں آتی ہے کہ اس جماعت کے تو اخلاص سے ڈر لگتا ہے خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو حیرت انگیز اخلاص بخشا ہے، جس کی مثال تو کیا اس کا عشر عشیر بھی دنیا کی دوسری تنظیموں میں آپ کو نہیں مل سکتا۔طوعی نظام ہو اور اس قدرا خلاص اور محبت کے ساتھ انسان اپنے وجود کو پیش کر دے۔اس کی کوئی مثال آپ کو جماعت سے باہر نہیں مل سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا یہ ایک زندہ ثبوت ہمیشہ کے لئے قائم و دائم رہے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔اس موقعہ پر خدا تعالیٰ کی حمد کرنا ہم پر فرض ہی نہیں بلکہ یہ خود بخود دل سے نکلتی ہے۔فرض