خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 339
خطبات طاہر جلد اول 339 خطبہ جمعہ ۱۷؍ دسمبر ۱۹۸۲ء تعالیٰ نے زیور بھی عطا کئے ہیں۔مگر کون ہے وہ زیوروں والی جو خدا تعالیٰ کی نظر میں زینت کے لحاظ سے اس عورت کا مقابلہ کر سکے جس کے ہاتھ اور پاؤں اور سر اور گردن محض خدا کی خاطر زیور سے خالی ہوئے ہیں۔وہ سر سے پاؤں تک بھی ہیروں اور جواہرات سے بھر جائیں پھر بھی وہ اس عورت کی زینت کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔خدا کا ایسا احسان ہے کہ اپنے ہاتھوں کو زیور سے خالی کرتے ہوئے اس عورت کو یہ احساس تک نہیں ہوا کہ میں اب قابل رحم ہو گئی ہوں ، میں محروم ہورہی ہوں ، بلکہ معاً خدا تعالیٰ نے اس کے دل کو ایک ایسے جذبے سے بھر دیا کہ وہ زیور سے نفرت کرنے لگی اور ایسی شدید نفرت کا اظہار ہے کہ گویا گھر میں زہر پڑا ہوا ہے۔اسے دور کریں ، ورنہ مجھے چین نصیب نہیں ہو گا۔یہ محض اور محض خدا تعالیٰ کا فضل ہے۔پس جو خدا فکریں پیدا کرتا ہے یا فکر والے حساس دل عطا کرتا ہے وہی فکروں کو دور کرنے کے سامان بھی مہیا فرما دیتا ہے۔اس ساری جدو جہد کا ماحصل کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ احمدی پہلے سے بھی بڑھ کر اپنے رب کے قریب تر ہوتا چلا جاتا ہے۔یہ فکریں اور فکروں کو دور کر نے کا نظام تو محض بہا نہ ہو گیا۔فی الحقیقت ان کی کوئی بھی حیثیت نہ رہی۔کام سارے خدا ہی نے کرنے ہیں اور کرتا چلا جاتا ہے۔لیکن اس جدو جہد کے دوران ہمارا ماحصل کیا ہے؟ وہ ہے اپنے رب کی رضا۔ہم دن بدن پہلے سے زیادہ اپنے پیارے محبوب، اپنے خالق و مالک کے قریب تر ہوتے چلے جارہے ہیں۔پس کیسا عظیم الشان سودا ہے جو ہم نے اپنے رب سے کیا ہے۔ہمارا کچھ بھی خرچ نہیں ہوتا اور ہر دفعہ ہم پہلے سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی رضا کی دولت سے مالا مال ہوتے چلے جارہے ہیں۔اسی سوچ میں محو ہوتے ہوئے میرا خیال پھر جلسہ سالانہ کی طرف لوٹا جو اس سال کا جلسہ ہے اور مجھے یقین ہو گیا کہ اگر ہم دعائیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ساری مشکلات دور فرمادے گا،سارے خدشات ٹال دے گا اور اس جلسے کو اپنے فضل کے ساتھ ہر لحاظ سے ایک نہایت کامیاب جلسہ ثابت فرمائے گا۔لیکن جہاں تک جلسے کی حقیقی کامیابی کا تعلق ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی توجہ دلائی تھی ، اس کے لئے ہمیں عبادت کا حق ادا کرنا ہوگا۔اگر ہم عبادت کا حق ادا نہیں کریں گے تو حقیقی کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔جلسہ کی ظاہری رونق اور ظاہری بہار اور ظاہری کامیابی تو کچھ بھی