خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 272 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 272

خطبات طاہر جلد اول 272 خطبه جمعه ۱۲ / نومبر ۱۹۸۲ء نتیجہ میں وہ جھگڑے کرتا ہے اور آخر سب کچھ چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔بعض دفعہ ابھی فیصلے نہیں بھی ہوئے ہوتے تو اس دنیا سے رخصت ہو رہا ہوتا ہے اس وقت اسے پتہ چلتا ہے کہ میرا ہے ہی کچھ نہیں محض ایک تماشہ تھا۔میں نے چند دن شور شمار ڈالا ہے اور اب حسرتیں لئے ، بیماریاں لئے ، دکھ لئے اور ایک جھگڑا کرنے والی اولاد پیچھے چھوڑتے ہوئے جو برکتوں سے محروم ہو چکی ہے۔جو نیکیوں کی لذتوں سے نا آشنا ہو چکی ہے دنیا کو چھوڑ رہا ہوں میں یہ جھگڑے اور ذلالتیں اور یہ عذاب اپنی اولا د کو ورثہ میں دے کر اس دنیا سے رخصت ہو رہا ہوں۔اس سے زیادہ کچھ بھی اس کی زندگی کا ماحصل نہیں ہوتا اور اس کے بعد جو دوسری آخرت آنے والی ہے اس میں اور بھی شدید تر عذاب اس کے مقدر میں لکھا جاتا ہے۔اس کے بدلہ بعض لوگ محض اللہ ، اللہ کی رضا کی خاطر دکھ برداشت کر لیتے ہیں وہ کہتے ہیں جس طرح ہو جھگڑا نپٹا ؤ ختم کرو اس معاملہ کو اور رضائے باری تعالیٰ کی خاطر وہ یہ دیکھتے ہوئے بھی کہ ان کے حقوق ہیں پھر بھی ان کو چھوڑنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ایسے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مغفرت ہے اور رضوان ہے۔اس دنیا میں بھی انجام کا روہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت کا سلوک پائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے رستے دیکھیں گے۔خدا ان کو رضا کے رستوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے گا اور آخرت میں رضا کی جنت سے بہتر اور کوئی جنت متصور ہی نہیں ہو سکتی۔اگر آخرت میں مغفرت مل جائے اور رضوان مل جائے تو اس سے اچھا سودا اور کیا ہوسکتا ہے۔مغفرت کا تعلق اصل میں انصاف سے ہے۔مغفرت کہتے ہیں حق چھوڑنے کو۔یعنی اس کی روح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنا حق بندہ کے لئے چھوڑ دیتا ہے ورنہ گناہگار انسان تو خدا کی چھری کے نیچے آچکا وہ جب چاہے چلے اس کو کوئی روک نہیں سکتا مگر وہ چھری رکی رہتی ہے۔خدا اپنا حق نہیں دیتا۔اس کا نام مغفرت ہے۔تو جو لوگ بجائے اس کے کہ اپنا حق چھوڑیں وہ ظلم سے دوسرے کا حق لیتے ہیں وہ مغفرت کے نیچے کس طرح آسکتے ہیں۔جن کی چھری ناحق بھی دوسروں پر چلتی ہے۔ظالم لوگ نا طاقت لوگوں پر غاصبانہ قبضہ کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں ہمیں ایک بہت عظیم الشان قوت حاصل ہوگئی۔اس نے ہمارا کیا کر لیا۔ہماری طاقت زیادہ ہے یہ کچھ بھی ہمارا بگا ڑ نہیں سکا۔وہ دنیا کی زندگی کے چند دن اس کی جائیداد کھاتے ہیں اور بظاہر مزے اڑا رہے ہوتے ہیں۔لیکن حقیقت میں اگر آپ ان کی زندگیوں پر نظر ڈالیں تو وہ مزے دنیا کی ظاہری آنکھ کے مزے ہیں۔لیکن کرتے کیا ہیں۔وہ اپنی