خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 269
خطبات طاہر جلد اول 269 خطبه جمعه ۱۲ / نومبر ۱۹۸۲ء مصطفی ﷺ کا اور اس معاشرہ کا جو آپ پیدا کرنا چاہتے تھے مگر اس سے ہم بہت پیچھے ہیں۔یہ ٹھیک ہے کہ بعض باتوں میں نیچے کی طرف نگاہ کرنی چاہئے تا کہ حسد پیدا نہ ہومگر بعض باتوں میں اوپر کی طرف نگاہ کی جاتی ہے۔پس جہاں تک اسوہ حسنہ کا تعلق ہے وہ ایک ہی ہے یعنی حضرت محمد مصطفی عملے کا۔ہمارے اپنے پیمانے ، ہماری ذاتی اصلاح کے پیمانے ، سب حضرت محمد مصطفی ﷺ کے پیمانے پر جا کر ختم ہو جاتے ہیں۔وہی ایک کسوٹی ہے۔جب ہم معاشرہ پر نگاہ ڈالتے ہیں تو بے انتہا بیماریاں اور دکھ اور تکلیفیں نظر آتی ہیں۔اس وقت دو تین بنیادی باتوں کی طرف میں جماعت احمدیہ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی فکر کریں ورنہ دنیا اور آخرت دونوں میں شدید نقصان اُٹھائیں گے۔جائیدادوں کی تقسیم کے جھگڑے ہیں۔مالی لین دین کے جھگڑے ہیں۔دو دوست شریک ہو جاتے ہیں ، بڑی محبت اور خوشی کے ساتھ آپس میں پیسے ڈال لیتے ہیں کہ چلومل کر کام کریں۔چند دن تک بڑا پیارا ماحول رہتا ہے پھر کچھ دیر کے بعد اختلافات شروع ہو جاتے ہیں۔پھر بدظنیاں شروع ہو جاتی ہیں۔پھر وہ کہتے ہیں کہ اچھا اب الگ ہو جاؤ۔الگ تو ہو جاتے ہیں لیکن شروع میں اعتماد کا جو دور تھا وہ ان کے لئے مصیبت بن جاتا ہے۔قرآن کریم تو فرماتا ہے چھوٹی بات ہو یا بڑی بات ہو مالی لین دین کو فَاكْتُبُوہ اس کو لکھ لیا کرو۔اس بات کو وہ بھلا دیتے ہیں اور ظاہری اعتماد جو شروع کا چلتا ہے اور بڑا پاکیزہ ماحول اور بھائی بہن بن جاتے ہیں ، گھروں میں آنے جانے شروع ہو گئے ، جی کہ مشترکہ کام شروع ہو گیا ہے اور قرآن کریم کی اس ہدایت کو کہ لین دین کو لکھ لیا کروعملاً تخفیف کی نظر سے دیکھ رہے ہوتے ہیں زبانی باتوں پر چلتے ہیں۔جب اختلاف شروع ہوتے ہیں تو ساری زبانی با تیں یا تو بھول چکی ہوتی ہیں یا ایک شخص کو عمداً جھوٹ بولنے کا موقع مل جاتا ہے اور معاشرہ میں بہت بڑی مصیبت پیدا ہو جاتی ہے۔علیحدہ ہور ہے ہیں لیکن کوئی حساب کتاب نہیں۔کوئی کہتا ہے تم نے یوں کر لیا تھا کوئی کہتا تم نے یوں کر لیا تھا۔کوئی کہتا ہے تم نے زیادہ فائدے اٹھائے تھے۔اگر اس وقت محبت کے نتیجہ میں وہ فائدے برداشت ہورہے تھے تو اب پھر ان پر اعتراض کا حق نہیں ہے۔اور اگر وہ ایسے فائدے تھے جو قابل اعتراض تھے تو لین دین کے حساب میں اس کو شامل ہو جانا چاہئے تھا مگر یہ تفصیلات میرے ذہن میں نہیں ہیں میں تو صرف آپ کو مثالیں دے رہا ہوں کہ اس قسم کی باتوں میں قرآن کریم کی تعلیم سے انحراف کے نتیجہ میں بہت بڑے مصائب ہیں جو معاشرہ