خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 268 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 268

خطبات طاہر جلد اول 268 خطبه جمعه ۱۲/ نومبر ۱۹۸۲ء اگر چہ سارے معاشرے میں اصلاح کے لئے محنت کی ضرورت ہے لیکن مجھے اس وقت ان بدیوں کی فکر ہے جو جماعت احمدیہ کے اندر داخل ہو رہی ہیں۔باقی دنیا کا کام بھی ہم نے ہی کرنا ہے لیکن پہلے اپنے بوجھ تو اتاریں، پہلے اپنی کمزوریاں تو دور کریں اس کے بعد ہم دنیا کو دعوت دیں گے کہ آؤ دیکھو! ہم نے اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی توفیق سے وہ پاک معاشرہ قائم کر لیا ہے تم بھی ہمارے پیچھے آؤ اور اس جنت میں داخل ہو جاؤ۔اس آواز سے پہلے جو دنیا میں گویا ایک صلائے عام ہو گی، جو دنیا کے چاروں کونوں میں گونجے گی، احمدیت کو تیاری کرنی چاہئے۔وقت کے ساتھ جو بدیاں دخل انداز ہو جاتی ہیں اگر ہم نے زندہ اور باشعور قوموں کی طرح ان کا مقابلہ نہ کیا تو پھر دنیا کے معلم نہیں بن سکتے پھر تو ہم پر وہی مثال صادق آئے گی کہ Physician Heel Thyself اے علاج کے دعویدار ! پہلے اپنا تو علاج کر۔ہمارے ایک احمدی دوست تھے ان کی گنج دور کرنے کی دوا بڑی مشہور تھی اور انہوں نے اس سے بہت کمایا۔اور دنیا میں ایسے گنجے کم دیکھنے میں آتے ہیں جیسے وہ خود تھے یعنی بارڈر پر بھی بال نہیں تھے اور وہ پگڑی پہنے ہوئے اور سجے ہوئے بیٹھے گنج کا علاج کیا کرتے تھے۔بڑی دور دور تک ان کی شہرت پائی جاتی تھی۔تو جس نے ان کو نہیں دیکھا اور ان کے اشتہار پڑھے ہیں وہ تو بیچارا پیسے خرچ کر دیتا ہوگا بال اگیں یا نہ اگئیں۔لیکن جس نے ایسے طبیب کو دیکھا ہو وہ تو یہی کہے گاPhysicianHeel Thyself او میرے طبیب حاذق ! پہلے اپنا تو علاج کر۔تیرے سر پر تو ایک بال نہیں ہے تو ساری دنیا کو بال اگانے کی دعوت دے رہا ہے۔پس یہی مثال ان قوموں پر صادق آتی ہے جو دنیا کی تعلیم وتربیت کے بلند دعاوی کرتی ہیں اور اپنے معاشرہ میں جو خرابیاں داخل ہو رہی ہوتی ہیں ان سے لا پرواہ ہو جاتے ہیں۔مجھے بڑی کثرت سے خط آتے ہیں جب کسی احمدی کو کوئی تکلیف ہوتی ہے ہماری بہن کو ، ماں کو بیٹی کو، بھائی کو، باپ کو، کسی کو بھی تکلیف ہوتی ہے تو وہ مجھے لکھتا ہے۔چنانچہ روزانہ کثرت سے ایسے خط سامنے آتے ہیں جن سے معاشرہ کے دکھ معلوم ہوتے ہیں اور پتہ لگتا ہے کہ معاشرہ کس قدر مصیبت میں مبتلا ہے۔جہاں تک بیرونی معاشرہ کا تعلق ہے مجھے یہ موازنہ ہرگز تسلی نہیں دے سکتا کہ ہم ان سے بہتر ہیں، ان سے چند حصے بہتر ہونا کوئی حقیقت نہیں رکھتا، میرے ذہن میں تو معیار ہے حضرت محمد