خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 252 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 252

خطبات طاہر جلد اول 252 خطبه جمعه ۵ /نومبر ۱۹۸۲ء چنانچہ اس پس منظر میں ۱۹۳۴ء میں حضرت مصلح موعود نے اس تحریک کا آغا ز فرمایا۔اس وقت کے اقتصادی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اور اس وقت کی جماعت کی غربت کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ نے اپنے اندازے کے مطابق ستائیس ہزار روپے کی تحریک فرمائی اور اس پر بھی آپ کا یہ تاثر تھا کہ اس وقت کے جماعت کے اقتصادی حالات مستقل طور پر یہ بوجھ برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔یا یوں کہنا چاہئے کہ اقتصادی حالات کا تقاضا یہ ہے کہ مستقل طور پر یہ تحریک جاری نہ کی جائے بلکہ چند سال کے لئے قربانی مانگی جائے۔چنانچہ آپ نے تین سال کیلئے اس چندے کا اعلان فرمایا جس کے ذریعے سے تمام دنیا میں تبلیغ اسلام کی داغ بیل ڈالی جانی تھی۔اس وقت حاضرین اس بات کو پوری طرح سمجھ نہیں سکے۔بہت سے ایسے تھے جنہوں نے سمجھا کہ یہ تحریک صرف ایک سال کیلئے ہے۔چنانچہ انہوں نے بظاہر اپنی توفیق سے بہت بڑھ کر چندے لکھوائے۔سلسلہ کے بعض کلرک ایسے تھے جن کو اس زمانے میں پندرہ روپے مہینہ تنخواہ ملا کرتی تھی۔انہوں نے تین تین مہینے کی تنخواہیں لکھوا دیں۔بعض ایسے تھے جنہوں نے دو مہینے کی تنخواہ لکھوا دی اور ذہن پر یہی اثر تھا کہ ایک دو سال کے اندر ہم ادا کر دیں گے۔سلسلہ کے بہت سے ایسے بزرگ بھی تھے جو اگر چہ کچھ زائد تنخواہ پانے والے تھے لیکن اس زمانے میں بھی ان کی تنخواہ دنیا کے لحاظ سے بہت کم تھی۔مثلاً ناظروں کے معیار کے لوگ اور سلسلہ کے پرانے خدام اور صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی لمبی خدمت کی توفیق پائی تھی پچاس، ساٹھ ، ستر روپے ماہوار سے زیادہ ان کی تنخواہیں نہیں تھیں، ان میں سے بھی بعض نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر چندے لکھوائے۔مثلاً حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے اڑھائی سو روپے چندہ لکھوایا۔اسی طرح دیگر بزرگوں میں سے مولوی ابوالعطاء صاحب ( جو اس وقت کی نسل میں نسبتا چھوٹے تھے ) اور مولوی جلال الدین صاحب شمس نے بھی پچاس پچاس روپے پچپن پچپن روپے لکھوائے، جو اس زمانے کے لحاظ سے ان کی آمد کے مقابل پر بہت زیادہ تھے۔لیکن اس وقت یہ بات کھل کر سامنے نہیں آئی تھی کہ یہ تحریک مستقل نوعیت کی ہے، ہاں بعد میں جب یہ اعلان کیا گیا کہ یہ ایک سال کے لئے نہیں بلکہ تین سال کیلئے تھی تو ان زیادہ لکھوانے والوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں تھا جس نے یہ درخواست کی ہو کہ غلط فہمی میں زیادہ لکھوا دیا گیا ہے، طاقت سے بڑھ کر بوجھ ہے، اس لئے ہمیں