خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 245 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 245

خطبات طاہر جلد اول 245 خطبه جمعه ۲۹/اکتوبر ۱۹۸۲ء دکھا ئیں کہ تمہارے لیے یہ کچھ کرنے کا پڑا ہوا ہے۔یہ تم کرو اپنی محنت ڈالو۔اس کی بہتر جزا اللہ تعالیٰ تمہیں عطا فرمائے گا۔اور تمہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کر دے گا۔پس رحیمیت کے اس تقاضے کو پورا کرنے کے لیے میں ایک کمیٹی بنادوں گا لیکن اس سے پہلے کہ ایک مرکزی کمیٹی بنائی جائے میں ساری جماعت سے یہ تحریک کرتا ہوں کہ وہ ذی شعور دوست جن کو اللہ تعالیٰ نے صنعتوں کا ملکہ عطا فرمایا ہوا ہے ، جن کو اللہ تعالیٰ نے تجارت کا ملکہ عطا فرمایا ہے، جن کو مالی لحاظ سے وسعتیں دی ہیں اور تجربے دیئے ہیں وہ ربوہ کے حالات کا (فی الحال ہم ربوہ سے بات شروع کریں گے ) اور ربوہ کے غربا کا جائزہ لے کر یہ تجویزیں پیش کریں کہ ان غربا کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے جماعت ان کی کیا مدد کر سکتی ہے۔کون سے ایسے ذرائع عمل میں لاسکتی ہے جن کے نتیجہ میں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی اس رحمت سے حصہ پائیں جس کے نتیجہ میں انسان دوسروں کو بھی عطا کرتا ہے۔ان کی بھی تمنائیں پوری ہوں کہ ہم مسجدوں کی تعمیر میں بھی خرچ کریں اور دوسرے غریبوں کے گھروں کے لیے بھی خرچ کریں۔یہ وہ کم از کم مقام ہے جس کی طرف اسلام لے جانا چاہتا ہے۔اس لیے اس تقاضا کے پیش نظر جماعت کے جو انڈسٹریلسٹ ہیں، تاجر ہیں، اقتصادیات میں مختلف قسم کے صاحب تجربہ لوگ ہیں ، ان کو میں ایک عام اعلان کے ذریعہ اس طرف دعوت دیتا ہوں۔مثلاً حالات کا جہاں تک تعلق ہے، ایک گندم کمیٹی ہے اس کے پاس ! لا ما شاء اللہ اکثر غربا کے حالات موجود ہیں ربوہ میں اکثر مصیبت زدگان آجاتے ہیں۔غربا اکٹھے ہو جاتے ہیں بیوگان اور یتامی اکٹھے ہو جاتے ہیں اور ایک بڑی بھاری نسبت ہے ہمارے اندر سوسائٹی کے ایسے حصہ کی جن کے لیے دیکھ بھال کا کوئی نظام نہیں ہے۔اگر چہ جماعت کی طرف سے گندم بھی دی جاتی ہے۔کپڑوں کی صورت میں بھی امداد دی جاتی ہے۔تعلیم کی صورت میں بھی امداد دی جاتی ہے۔لیکن یہ سارے رحمانیت کے مظاہر ہیں۔رحیمیت کے مظاہر کے طور پر کوئی چیز مجھے اس وقت نظر نہیں آرہی۔البتہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے مختلف وقتوں میں ایسی مختلف تحریکات کی تھیں جو کچھ دیر چلیں اور پھر وہ آہستہ آہستہ نظر سے غائب ہو گئیں اور اس کا بھی دراصل اس پیشگوئی کے ایک حصہ سے تعلق تھا جو مصلح موعود کی پیشگوئی کہلاتی ہے اور جس کو رڈیا کی صورت میں حضرت مصلح موعودؓ نے