خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 244
خطبات طاہر جلد اول 244 خطبه جمعه ۲۹/اکتوبر ۱۹۸۲ء اسی تحریک کا دوسرا پہلو رحمانیت سے آگے جا کر رحیمیت سے تعلق رکھتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام ایک طرف غریبوں سے ہمدردی سکھاتا ہے اور یہ سکھاتا ہے کہ ان کیلئے کچھ کرو ، انہیں کچھ عطا کرو۔دوسری طرف غریبوں کو عزت نفس سکھاتا ہے اور کہتا ہے کہ حتی المقدور کوشش کرو کہ تم لینے والے نہ بنو، دینے والے بنو۔یہ حیرت انگیز معاشرہ ہے اس کے تصور سے بھی روح اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو جاتی ہے۔یعنی دنیا کے معاشروں سے بالکل برعکس شکل پیش کرتا ہے۔تو سوال یہ ہے کہ اگر چہ ہم بحیثیت جماعت کے اپنے غرباء کے لئے لازماً کچھ نہ کچھ ضرور کریں گے۔جتنی خدا تو فیق دے مگر ان تقاضوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے جو عالم اسلام کی ضروریات کے وسیع تقاضے ہیں اور ساری دنیا میں پھیلے پڑے ہیں۔لیکن خود غربا کو یہ چاہئے کہ جہاں تک بس چل سکے وہ کفایت اختیار کریں اور قناعت اختیار کریں اور اپنے اندر ایک عظمت کردار پیدا کریں اور ان کی کوشش یہ ہو کہ حتی المقدور وہ لینے والے نہ بنیں بلکہ دینے والے بنیں۔یہ قناعت اور عظمت کردار ایک ایسی عظیم الشان چیز ہے جو اسلام عطا کرتا ہے۔دنیا میں کسی اور مذہب میں نہیں ملتی اور اس کے نتیجہ میں تکلیفیں کم ہوتی جاتی ہیں اور ہونے کے با وجود زائل ہو جاتی ہیں۔آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں اس کا نظارہ ہمیں یہ ملتا ہے کہ اصحاب الصفہ جو بالکل غریب لوگ تھے اور آنحضرت ﷺ کی عطا پر ان کا انحصار تھا۔اگر وہ عطا نہ ہوتی تو وہ فاقے مرجاتے لیکن اس کے باوجود یہ تمنا کہ ہم خرچ کرنے والے بہنیں اتنا بے قرار رکھتی تھی کہ بعض دفعہ وہ ہتھیار لے کر باہر جنگلوں میں نکل جاتے تھے یعنی کلہاڑے اور آریاں وغیرہ لے کر چلے جاتے تھے اور لکڑیاں کاٹ کر لاتے اور فروخت کرتے تھے۔یہ مزدوری وہ اس غرض سے کرتے تھے کہ وہ بھی غریبوں پر کچھ خرچ کریں اور وہ بھی اسلام کی راہ میں کچھ پیش کریں۔ان کا نام بھی عطا کرنے والوں میں لکھا جائے۔(مسلم کتاب الامارۃ باب الجر للشھید ) یہ عظمت کردار ہے جو اسلام غریب کو عطا کرتا ہے۔اس سلسلہ میں رحیمیت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان کی کچھ مدد کریں اور ایک ایسے رنگ میں کریں کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں۔غربا کی سوسائٹی کی طرف ایسی توجہ کریں کہ رحیمیت کے نظام میں داخل ہوتے ہوئے وہ اپنے اعمال کی اچھی جزاء پائیں اور جہاں ان کو نظر نہیں آتا کہ ہم کیا کریں اور بے بسی کے عالم میں ہیں وہاں ہم ان کو