خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 237
خطبات طاہر جلد اول 237 خطبه جمعه ۲۹/اکتوبر ۱۹۸۲ء لوگوں کا رستہ بھی نہ ہو جو رحیمیت کو نظر انداز کر کے بالآخر ملِكِ يَوْمِ الدِین تک پہنچتے ہیں کیونکہ وہ ضالین ہو جاتے ہیں۔رحیمیت کیا ہے؟ اعمال کے نظام کا ایک نقشہ ہے۔جس میں اللہ کے رحم پر سہارا کرتے ہوئے انسان جو بھی نیک عمل کرتا ہے اس کی نیک جزا پاتا ہے۔عیسائیت کی بنیاد اس بات پر ہے کہ ایسا کوئی خدا ہمیں نظر نہیں آتا جو نیک اعمال کو قبول فرماتے ہوئے اس میں اپنے رحم کا حصہ شامل کرتے ہوئے ہمیں جزا دے اور ہمیں ہلاکتوں سے نجات بخشے۔بلکہ ایسا ظالم خدا نظر آتا ہے کہ تمام اعمال جو ہم کرتے ہیں خواہ وہ کیسے ہی اعلیٰ پایہ کے ہوں ، کیسی ہی حسین شکلیں اختیار کر جائیں بالآخر خدا اس رنگ میں ”عدل“ کا سلوک کرے گا کہ ہمیں گناہگار ہی لکھے گا یعنی یہ عجیب عدل کا تصور ہے۔تمام زندگی کے نیک اعمال کے بعد بھی ہم گناہگار کے گناہگار لکھے جائیں گے۔محض اس لیے کہ ہمارے آباؤ اجداد نے گناہ کیا تھا۔اس لیے رحیمیت کا کوئی نظام بھی انسان کو بچا نہیں سکتا۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ خدا نے اپنے بیٹے کو بھیجا اور اس کو ہماری خاطر مصلوب کیا۔یعنی یہ بھی عدل کا عجیب تصور ہے کہ ایک شخص کو بچانے کے لیے ایک اور بیچارے معصوم آدمی کوسولی پر لٹکا دیا تا کہ جولوگ رحیمیت سے عاری ہو کر کوئی فیض نہیں پاسکتے میرا بیٹا اُن کے لیے ہلاک ہو جائے اور اس کے نتیجہ میں اُن پر رحم کیا جائے۔پس رحیمیت کے نظام کو تہس نہس کر دینا عیسائیت کا نام ہے۔یہ عیسائیت کا خلاصہ ہے۔آپ جس پہلو سے بھی عیسائیت کو دیکھیں گے وہ رحیمیت کے منکر نظر آئیں گے اپنے نظریات میں بھی اور اپنے اعمال کے لحاظ سے بھی۔اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ ضالین ہیں۔مومن کیلئے صراط مستقیم پر چلنا اسی طرح ہے جس طرح ہر دوسری چیز کے لیے ہے۔لیکن مومن کی صراط مستقیم ربوبیت - ہوتی ہوئی حمد کے دروازہ سے داخل ہوتی ہے۔ربوبیت کا نظارہ کرتی ہوئی وہ رحمانیت میں داخل ہوتی ہے۔رحمانیت سے وہ رحیمیت میں چلی جاتی ہے۔رحیمیت سے پھر وہ اپنے مالک یوم الدین یعنی اپنے رب کے حضور حاضر ہو جاتی ہے۔یہ وہ راہ ہے جس کو الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ کہا گیا اور جہاں ربوبیت نظر انداز ہو یا رحمانیت نظر انداز ہو یا رحیمیت نظر انداز ہو وہ ساری ٹیڑھی راہیں