خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 236
خطبات طاہر جلد اول 236 خطبه جمعه ۲۹/اکتوبر ۱۹۸۲ء طرف بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ O میں اشارہ ہے۔(اسکی تفصیل بیان کرنے کا یہاں وقت نہیں ) مگر اس کے بعد پھر ایک رحمانیت اور رحیمیت کا تم دور دیکھو گے اور مذہبی دنیا کے لحاظ سے خدا تمہیں رحمان بھی نظر آئے گا اور رحیم بھی نظر آئے گا۔بن مانگے تمہیں اس نے قرآن عطا فر ما دیا جو اس کی رحمانیت کا مظہر ہے جیسا کہ فرمایا: الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ (الرحمن :۲۵) یعنی تخلیق خواہ روحانی دنیا کی ہو یا مادی دنیا کی، دونوں رحمان سے نکلتی ہیں لیکن رحمانیت کا یہ جلوہ دکھانے کے بعد رحیمیت کے دور میں داخل کر دیا۔یعنی جزا و سزا کے دور میں تم اپنے اعمال کے ذریعہ مزید ا چھے بھی بن سکتے ہو، برے بھی بن سکتے ہو۔اچھے اعمال کے نتیجہ میں اچھا نتیجہ پاؤگے اور برے اعمال کے نتیجہ میں برا نتیجہ دیکھو گے۔یہ سب سفر طے کرنے کے بعد تم اپنے رب کے حضور حاضر ہو جاؤ گے اور تمہارا کچھ بھی نہیں رہے گا۔پھر سب کچھ اللہ کی طرف واپس لوٹ چکا ہوگا۔یہ جو سفر بیان فرمایا اس سفر کے اندر رحمانیت میں سے گزرنا اور پھر رحیمیت میں سے گزرنا ضروری ہے۔یعنی ہر چیز جو خدا تعالیٰ کی ربوبیت کا مظہر بنتی ہے وہ اگر رحما نیت اور رحیمیت میں سے ہو کر مُلِكِ يَوْمِ الدِین تک پہنچے گی تو یہ وہ صراط مستقیم ہے جو أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی راہ ہے۔اگر شارٹ سرکٹ کرے گی تو پہنچے گی تو پھر بھی مُلِكِ يَوْمِ الدِین کے پاس ہی لیکن اگر رحمانیت کو نظر انداز کر کے پہنچے گی تو مغضوب بن کر پہنچے گی۔اگر رحیمیت کو نظر انداز کر کے پہنچے گی تو ضالین بن کر پہنچے گی۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ رحمانیت سے عاری لوگوں کو مغضوب کہا گیا یعنی یہود کو۔اور رحیمیت کی صفت کا انکار کرنے والوں کو ضالین کہا گیا یعنی نصاری کو۔یہود کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے اُن کے دل پتھر ہو گئے تھے۔وہ خدا کی رحمانیت سے منحرف ہو گئے اور رحمانیت کا کوئی جلوہ انہوں نے اختیار نہیں کیا۔کامل طور پر سخت دل ہو گئے۔چنانچہ ان کے متعلق قرآن کریم نے فرمایا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ ان لوگوں کا رستہ نہ ہو جو رحمانیت کو نظر انداز کر کے بالآخر ملِكِ يَوْمِ الدِین تک پہنچتے ہیں۔کیونکہ وہ مغضوب ہو جاتے ہیں۔اوران