خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 217
خطبات طاہر جلد اول 217 خطبه جمعه ۱٫۲۲ کتوبر ۱۹۸۲ء ہونے لگتا ہے۔( دنیا کی اصطلاح میں ) اسی قدر زیادہ وہ زینت کے سامان اپنے لئے پیدا کرتا ہے وَتَكَاثُرُ فِي الْأَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ اور زینت کے سامان اس کے لئے کافی نہیں ہوتے۔حقیقت میں مال کی ذاتی محبت میں وہ مبتلا ہو جاتا ہے اور مال کا مقصد صرف لہو ولعب یا زینت حاصل کرنا نہیں رہتا بلکہ آخر کا ر ان لوگوں کا انجام یہ ہوتا ہے کہ مال کی ذاتی محبت میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اولاد کی محبت میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے پر فخر کرنے کے نتیجے میں فخر کے حصول کے نتیجے میں وہ مال کو بھی بڑھانے لگتے ہیں اور اولادکو بھی بڑھانے لگتے ہیں۔یعنی فی ذاتہ یہ مقصود بن جاتے ہیں۔اس سے مراد کیا ہے؟ اگر آپ غور کریں تو انسانی زندگی کی تمام کجیاں اور تمام بے راہ رویاں اسی آیت کے اندر مذکور ہیں اور اس کا تجزیہ نہایت ہی پاکیزہ رنگ میں یہاں کر دیا گیا ہے۔دنیا میں جتنی بھی خرابیاں ہیں، جتنی بھی تباہیاں ہیں معاشرے کی جتنی بھی انسانی بیماریاں ہیں ان سب کا تجزیہ اس مختصر آیت میں پیش فرما دیا گیا اور اعلیٰ اقدار سے روکنے کی جتنی بھی چیزیں ذمہ دار ہوسکتی ہیں ان سب کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے۔آپ کھیل کو د اور لہو ولعب سے بات شروع کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ وہ کم سے کم زندگی کا مطلوب ہے جو وسیع طور پر انسان کو حاصل ہو سکتا ہے یعنی اس میں امیر اور غریب کا فرق ہوتا تو ہے لیکن اس حد تک نہیں کہ غریب اس سے محروم رہ جائے۔امیروں کو بہت ہی مہنگی اور اچھی قسم کی کھیلیں مہیا ہو جاتی ہیں۔غریب کو معمولی کھیلیں مہیا ہو جاتی ہیں۔کوئی اور بس نہیں چلتا، کرکٹ نہیں کھیل سکتا، ہا کی نہیں کھیل سکتا، فٹ بال نہیں کھیل سکتا تو کپڑے اتار کے کبڑی تو کھیل ہی سکتا ہے اور یہاں سے خدا نے بات شروع کی ہے جو انسانی زندگی کے بہت ہی وسیع پیمانے سے تعلق رکھتی ہے۔اور اسی طرح نفسانی خواہشات کی پیروی میں بھی امیر وغریب برابر ہیں اس لحاظ سے کہ دونوں کا بس چلے تو کسی نہ کسی حد تک وہ نفسانی خواہشات کی پیروی کر لیتے ہیں۔لیکن کھیل کو دسب سے عام ہے اور نفسانی خواہشات کی پیروی اس سے نسبتاً چھوٹے دائرہ کی ہے لہذا اس کا بعد میں ذکر فر مایا۔زینت کا مقام اس کے بعد آتا ہے۔اگر چہ ہر انسان کی خواہش ہے کہ میں زینت اختیار کروں لیکن زینت کا خاص تعلق نسبتا زیادہ اموال سے ہے۔جب زندگی کی ادنی ضروریات پوری ہو جا ئیں تو پھر زینت کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔غربت کے ساتھ بعض دفعہ زینت کا تصور بھی مٹ