خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 216
خطبات طاہر جلد اول 216 خطبه جمعه ۲۲/اکتوبر ۱۹۸۲ء اللہ تعالیٰ نے تمام انسانی زندگی اور اس کی دلچسپیوں اور اس کے ماحصل کا بہت ہی مختصر لیکن جامع الفاظ میں خلاصہ پیش فرما دیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ زندگی جس کے لئے انسان اپنی تمام تر توجہات ضائع کر دیتا ہے۔تمام کوششوں اور تمام زندگی کی جدو جہد کا مقصود جس زندگی کو بنالیتا ہے وہ زندگی کھیل ہے اور کہو ہے اور زینت ہے اور آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنے کا ذریعہ ہے اور اموال اور اولا د میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے اور ایک دوسرے سے زیادہ کثیر تعداد میں ان کے مالک بنے کا نام ہے۔فرماتا ہے۔اس زندگی کی مثال ایسے بادل کی سی ہے جسکو دیکھ کر کا فریاز زاع خوش ہوں اور وہ سمجھتے ہوں کہ ہمارے لئے اس سے بہت ہی اچھی نباتات نکلے گی۔پھر حقیقتا لہلہاتی ہوئی کھیتیاں اس سے نمودار ہوں لیکن دیکھتے ہی دیکھتے وہ خشک ہو جائیں اور پھر تو ان کو زرد دیکھے یہاں تک کہ وہ ریزہ ریزہ ہو کے بکھر جائیں اور انجام کا رآخرت میں شدید عذاب ہو۔لیکن ساتھ ہی مغفرت بھی ہو اللہ کی طرف سے اور اس کی رضوان بھی ہو۔وَ مَا الْحَیوةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ دیکھو! دنیا کی زندگی ایک دھو کے کے سوا کچھ بھی نہیں۔اللہ کی مغفرت کی طرف دوڑو۔ایک دوسرے پر سبقت لے جاؤ تاکہ تمہیں اپنے رب کی طرف سے مغفرت حاصل ہو اور ایسی جنت ملے جس کی قیمت یا جس کا حجم ، دونوں لحاظ سے آسمان اور زمین کے برابر ہو۔یہ جنت ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو ایمان لاتے ہیں اللہ پر اور اس کے رسولوں پر۔یہ خاص فضل ہے اللہ کی طرف سے وہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے۔ان آیات کریمہ میں زندگی کا جو خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔اس میں سب سے پہلے لعب رکھا ہے کھیل کو د۔اور دنیا میں بسنے والے بہت سے انسانوں کی تعداد ایسی ہے جو زندگی کو محض کھیل کو د اور ظاہری دلچسپیوں کے ذریعہ سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے۔وَلَھو اور ہوائے نفس کی پیروی کرتے ہیں تمام ایسی لذتیں جن کا انسانی شہوات سے تعلق ہو لہو میں آجاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ زندگی میں اکثر انسان ان دو چیزوں کی پیروی ہی کو اپنا مقصود بنا لیتے ہیں۔اور اس کے بعد نسبتا زیادہ وہ لوگ جن کو خدا تعالیٰ ان سے زیادہ توفیق دیتا ہے اگلے قدم پر ، وہ زینت کے سامان مہیا کرتے ہیں۔درجہ بدرجہ انسانی زندگی کو دنیا میں جتنی عظمت حاصل ہوتی چلی جاتی ہے دنیا دار کی نگاہ میں ، جتنا اس کو حاصل