خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 210
خطبات طاہر جلد اول 210 خطبه جمعه ۵ ارا کتوبر ۱۹۸۲ء ہے کہ خدا تعالیٰ کے رَبِّ الْفَلَقِ ہونے کے مضمون کے چھوٹے سے چھوٹے ذرہ کے سارے پہلوؤں پر ابھی حاوی نہیں ہوسکا۔لَا يُحِيطُونَ بِشَيْ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ (بقر : ۲۵۲) کا عظیم الشان اعلان ہے جو ہر انسانی کوشش، ہر انسانی جستجو کے وقت سامنے آتا ہے اور اس کے نتیجہ میں جو شر پیدا ہوتے ہیں یا ہو سکتے ہیں یا آئندہ مستقبل میں پیدا ہوں گے ان کا مضمون بھی اتنا وسیع ہے کہ ہر فلق کے ساتھ ایک یہ مضمون بھی لگا ہوا ہے جو لا متناہی مضمون ہے۔مسجد سپین کے ساتھ جو بجیں ہم نے دیکھیں۔اللہ کے فضل کی صبحیں جو پھوٹی ہیں بلاشبہ ہمارے دل اس سے روشن ہو چکے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم اس صبح کی نمازیں ادا کریں اور خدا کی حمد کے گیت گائیں اور گاتے چلے جائیں تب بھی یہ ایسا فضل ہے جس کے شکر کا حق ادا نہیں ہو گا۔لیکن اس کے نتیجہ میں جو بعض شر پیدا ہوتے ہیں ان سے بھی محفوظ رہنے کی دعا ضروری ہے۔ایک تو صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے روشنی ظاہر ہونے پر آپ فجر کی نماز پڑھتے ہیں۔لیکن ایک وہ نماز ہے جو ہر فلق کے وقت انسان کو پڑھنی چاہئے۔وہ نماز ذکر الہی کی نماز ہے جو انسان کے اندر جذب ہو جاتی ہے۔یہ نماز اس توجہ کی نماز ہے کہ ہر نیا دور، ہر نئی شان جو خدا نے ظاہر فرمائی ہے جو اس کی رحمت اور فضلوں کا نشان ہے ہمیں اس کے لئے اس کا شکر ادا کرنا چاہئے ، اس کی حمد کرنی چاہئے۔یہ تو ہے خیر فلق یعنی فلق کا خیر کا پہلو اور شر کا پہلو یہ ہے کہ انسان اسی کو اپنا سب کچھ سمجھ لے۔وہ سمجھے کہ ہم نے آخری بازی جیت لی ہے، تمام دنیا فتح ہوگئی ہے کیونکہ ہم نے یہ صبح دیکھ لی، خدا کا یہ فضل دیکھ لیا، اب اس کے بعد گویا کسی اور چیز کی ضرورت ہی نہیں رہی اور اس کے جو خطرات ہیں ان سے وہ غافل ہو جائے۔اس سوچ میں خطرات ہیں، اس فکر میں خطرات مخفی ہیں جن کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔وہ خطرات مثلاً ایک یہ کہ ایک انسان اگر ایک چھوٹی چیز پر راضی ہو جائے اور سمجھے کہ میں نے مقصد کو حاصل کر لیا ہے تو اگلا قدم نہیں اٹھائے گا۔اس راستے کے جو تقاضے ہیں۔مثلاً محنت ہے وہ ان کو پورا نہیں کرے گا۔وہ جذباتی طور پر اظہار کر کے بلند نعرے لگا کر سمجھے گا کہ میری مطلب براری ہوگئی، آج مجھے مزہ آ گیا ، سب کچھ حاصل ہو گیا۔لیکن جو شخص یہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل ہیں اور اس کے لامتناہی فضل ہیں ، ایک فلق نہیں اس کے قبضہ قدرت میں بے شمار افلاق ہیں، ان تمام فلقوں کا وہ