خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 204
خطبات طاہر جلد اول 204 خطبه جمعه ۵ ارا کتوبر ۱۹۸۲ء زندگی سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ان کو روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آتی۔ان چیزوں سے پناہ کی تلقین فرمائی گئی۔دعا سکھائی گئی۔قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ اے خدا! تو جونی نئی امیدیں پیدا کرنے والا اور ہمارے لئے ترقی کے نئے راستے کھولنے والا ہے، تو ہماری کوششوں کے بیجوں کو نئے پودوں اور لہلہاتی ہوئی کونپلوں میں تبدیل کرنے والا خدا ہے۔تو زندگی کے اس عمل کے شر سے ہمیں محفوظ رکھنا کیونکہ ہر پیدائش کے ساتھ کچھ شر بھی لگے ہوتے ہیں۔اور ہمیں موت سے غافل نہ ہونے دینا۔کیونکہ جس وقت زندہ چیز موت کے خطروں سے غافل ہو جاتی ہے وہ ہمیشہ انحطاط پذیر ہو جاتی ہے۔وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ اور رات کے خطروں سے بھی بچانا جب وہ چھا جائے۔غَسَقَ الَّيْلُ کا مطلب ہوتا ہے رات جب اندھیری ہو جائے ، جب بھیگ جائے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس مضمون کو دوسری جگہ خود واضح کیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔أَقِمِ الصَّلوةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ الَّيْلِ (بنی اسرائیل :) کہ جب رات گہری ہو جائے اس وقت بھی نماز پڑھا کرو۔کیونکہ اس وقت خطرات سے بچنے کے لئے دعاؤں کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔یہی مضمون ہے جو اس آیت میں بیان فرمایا وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ اس وقت کھڑے ہو جایا کر و عبادت کے لئے اور دعائیں کیا کرو کہ رات کے خطرات سے بھی ہمیں محفوظ رکھنا۔تو نے ایک صبح امید تو پیدا فرمائی لیکن ہم جانتے ہیں کہ ہر صبح کے ساتھ ایک رات بھی وابستہ ہوا کرتی ہے۔تو صبح کے وہ فضل تو لے کر آیا لیکن راتوں کے شر سے بھی ہمیں محفوظ رکھنا۔فَالِقَ الْاِصْبَاحِ کا یہ وہ مضمون ہے جس کی طرف قرآن کریم نے خود اشارہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَالِقَ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنَّا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا (الانعام: ۹۷) فَالِقُ الْاِصْبَاحِ تو وہ ہے لیکن فلق کے بعد ایک رات بھی آیا کرتی ہے۔خدا کے مومن بندے جو اس کی طرف جھکنے والے ہیں اور اس کی یاد میں مبتلا رہتے ہیں ان کے لئے وہ رات سکینت