خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 203 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 203

خطبات طاہر جلد اول 203 خطبه جمعه ۵ ارا کتوبر ۱۹۸۲ء ڈال دینا۔یہ ہے وہ مضمون جس کو بھلانے کے نتیجہ میں فتوحات کے وقت فخر پیدا ہو جاتے ہیں، ادنیٰ ادنی نعمتوں کے حصول کے وقت انسان اپنی عاقبت سے بے نیاز اور بے فکر ہو جاتا ہے، زندگی کے ایک پہلو کو حاصل کر کے زندگی کے دوسرے پہلو سے آنکھیں بند کر لیتا ہے۔نعمت کے طور پر اسے تھوڑی سی چیز ملے تو اس نعمت کے نتیجہ میں وہ خود مالک بن بیٹھتا ہے اور خدا سے غافل ہو جاتا ہے۔نتیجہ اس شر سے بے پرواہ ہو جاتا ہے جو نعمت کے ساتھ حق ہوتا ہے۔اگر نعمت کا صحیح استعمال ہو تو انسان شر سے بچ جاتا ہے، اگر غلط استعمال ہو تو شر اس کے بعد لازماً اس کے تعاقب میں آتا ہے۔چنانچہ یہی وہ مضمون ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ایک اور رنگ میں یوں بیان فرمایا ہے۔وَإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَى الْإِنْسَانِ أَعْرَضَ وَنَا بِجَانِبِهِ ۚ وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ يَوْسًا (بنی اسرائیل : ۸۴) کہ ایسے گھڑ دلے لوگ ہوتے ہیں جو زندگی کے دونوں پہلوؤں سے واقف نہیں ہوتے ، جو خدا تعالیٰ کی کائنات کے رازوں سے بے پرواہ ہو جاتے ہیں، جب ہم ان کو نعمت عطا فرماتے ہیں، أَعْرَضَ وَنَا بِجَانِب ہے، اس کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ وہ نعمت لینے سے انکار کر دیتے ہیں۔اس مضمون پر پہلے میں ایک خطبہ میں روشنی ڈال چکا ہوں۔ایک اور پہلو یہ ہے کہ ہم نعمت عطا کرتے ہیں اور وہ أَعْرَضَ وَنَا بِجَانِبِ ہے وہ انسان خود پرستی میں مبتلا ہو جاتا ہے اور دین سے اور شکر کا حق ادا کرنے سے پہلو تہی کرتا ہے۔وَنَا بِجانب ہے اور ہر چیز کو اپنی جانب ہی سمیٹ لیتا ہے یعنی پہلو تہی اس رنگ میں گویا میں ہی تھا ، سب کچھ میرا ہی ہے اور کسی کا کوئی دخل نہیں۔یعنی خدا تعالیٰ کی رحمت سے کلینتہ غافل اور اس کے شکر سے کلیتہ غافل ہو جاتا ہے اور وہ نہیں جانتا کہ اس کے بعد شر بھی آنے والا ہے ایسی حالتیں ہمیشہ شر لے کر آتی ہیں۔نتیجہ وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّكَانَ يَوْسًا اس وقت بھی اس کی عجیب حالت ہوتی ہے جب اس کو شر پہنچتا ہے تو ایسے شخص میں مقابلہ کی طاقت نہیں ہوتی۔وہ ایک کیفیت سے مغلوب ہونا جانتا ہے۔یہ نفسیاتی فلسفہ ہے جو قرآن کریم بیان کر رہا ہے کہ وہ لوگ جو زندگی کے دونوں پہلوؤں پر بیک وقت نظریں نہیں رکھتے وہ ایک پہلو سے مغلوب ہو جاتے ہیں، جس طرح وہ خوشی سے مغلوب ہو جاتے ہیں اس طرح شر سے بھی مغلوب ہو جاتے ہیں۔اور شرآ تا ہے تو